سندھ پولیس کے لئے نئی قانون سازی، حکمران پیپلزپارٹی اوراپوزیشن جماعتوں کے مابین پبلک سیفٹی کمیشن کے تنظیمی ڈھانچہ پرتنازعہ شدت اختیار کرگیا

کراچی – سندھ پولیس کے لیے نئی قانون سازی،حکمران پیپلزپارٹی اوراپوزیشن جماعتوں کے مابین پبلک سیفٹی کمیشن کے تنظیمی ڈھانچہ پرتنازعہ شدید ہوگیا،پولیس آرڈر2002 میں پبلک سیفٹی کمیشن 13 ارکان پرمشتمل جبکہ حکومت سندھ 12 رکنی کمیشن کی تشکیل پربضد ہے،حزب اختلاف 2002 کے پولیس آرڈر کے تحت 13 رکنی پبلک سیفٹی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ پرڈٹ گئی ہے،پولیس کے لیے نئے قوانین پرمشاورت کے لیے ہنگامہ خیز اجلاس آج دوبارہ ہوگا ۔پولیس آرڈر2002 کی بحالی کے لیے سندھ اسمبلی میں پیش کیے گئے مجوزہ ترمیمی بل میں پبلک سیفٹی کمیشن کے ڈھانچہ پرحکومت اوراپوزیشن میں سخت معرکہ آرائی کا خدشہ ہے۔سندھ پولیس میں نئے قوانین کے نفاذ کے لیے پیش کیے گئے۔


حکومت سندھ کے مجوزہ ترمیمی بل پولیس آرڈر2002 کے مسودے میں حکمران پیپلزپارٹی کی طرف سے پولیس پرچیک رکھنے کے لیے قائم کیے جانے والے پبلک سیفٹی کمیشن کے ڈھانچہ میں تبدیلی کرتے ہوئے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی ارکان کی تعداد تین سے کم کرکے 2 کردی گئی ہے جسے اپوزیشن جماعتوں نے باالاتفاق مسترد کردیا ہے۔ سابق صدر پرویزمشرف کے دورمیں متعارف کرائے گئے پولیس آرڈر2002 میں صوبائی سطح پرصوبائی وزیرداخلہ کی سربراہی میں بنائے جانے والے 13رکنی پبلک سیفٹی کمیشن میں یکساں نمائندگی کے تحت حکومت کے تین اوراپوزیشن کے تین اراکین سندھ اسمبلی کا انتخاب اسپیکر سندھ اسمبلی جب کہ چھ دیگر غیر سیاسی اور آزاد اراکین کا انتخاب چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے دائرہ اختیارمیں تھا اور ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج, میجر جنرل رینک کے ریٹائرڈ افسر, پولیس کے سینئر ریٹائرڈ افسر اورسینئر بیوروکریٹ کوکمیشن میں بطوررکن نامزد کرناتھا۔


معمتد ترین ذرائع کا کہنا ہے کہ حکمران پیپلزپارٹی کے مجوزہ صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن کا بنیادی ڈھانچہ بارہ ارکان پرمشتمل ہوگا،جس میں 6 ارکان پارلیمان اور 6 ارکان سماجی شخصیات ہونگی اسی طرح ضلعی پبلک سیفٹی کمیشن 9 ارکان پرمشتمل ہوگا جن میں 3 مقامی ضلع کونسل کے ارکان ، 3 متعلقہ ضلع کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور 3 سماجی شخصیات شامل ہونگی۔پولیس آرڈر2002 کی بحالی کے نام پرپیش کیے گئے ترمیمی بل میں 2002 کے قوانین سے ہٹ کرتجویز کیے گئے قوانین اورصوبائی حکومت کے صوابدیدی اخیتارات میں اضافے کے لیے اپنائی گئی پیپلزپارٹی کی پالیسی پراپوزیشن جماعتیں چکراکررہ گئی ہیں اورانتہائی باریک بینی سے پولیس کوکنٹرول کرنے کے لیے مجوزہ بل میں متعارف کرائے گئے قوانین پراپوزیشن نے حکمران جماعت کے مجوزہ پبلک سیفٹی کمیشن کومسترد کردیا ہے تاہم اس اہم ترین معاملے پرسندھ اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کا ہنگامہ خیز اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں