کورونا کی روک تھام کے حوالے سے جاری کووڈ پابندیوں کے لیے صوبے کے عوام کے تعاون پر ان کا شکریہ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی نے کورونا کی روک تھام کے حوالے سے جاری کووڈ پابندیوں کے لیے صوبے کے عوام کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا جبکہ کیسز کی شرح بھی 8.63 فیصد سے کم ہوکر 6.8 فیصد ہوگئی ہے۔
اگر عوام اپنا تعاون اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھے تو ہم اس وبا کے پھیلائو پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں کورونا وائرس سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو ، وزیر صنعت جام اکرام دھاریجو ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب ، پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت قاسم سراج سومرو ، چیف سکریٹری ممتاز شاہ ، آئی جی سندھ مشتاق مہر ، اے سی ایس ہوم عثمان چاچڑ ، کمشنر کراچی نوید شیخ، ایڈیشنل آئی جی کراچی عمران منہاس سیکرٹری خزانہ حسن نقوی ، سیکرٹری اسکول ایجوکیشن احمد بخش ناریجو ، سیکرٹری صحت کاظم جتوئی ، ڈاکٹر باری ، ڈاکٹر فیصل ، ڈاکٹر سارہ خان ، ڈاکٹر قیصر سجاد اور کور 5 اور رینجرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ عید الفطر(مئی 15تا 21 مئی ) کے بعد پہلے ہفتے میں متاثر ہونے والے افراد کی شرح 8.63 تک پہنچ گئی تھی جب کہ اموات کی شرح 1.18 تھی اور دوسرے ہفتے میں (22 مئی تا 26 مئی )متاثرہ افراد کی شرح کم ہوکر 6.87 ہوگئی اور شرح اموات 0.9 فیصد ہوگئی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کووڈ پابندیوں کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے ہیں اور اس کا کریڈٹ لوگوں کو جاتا ہے جنہوں نے ایس او پیز پرعملدرآمد اورحکومت کی جانب سےعائد کردہ پابندیوں پرعمل کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون کیا لہٰذا شرح اموات اور متاثرہ افراد کی شرح کم ہوئی ہے۔ انہوں نے صوبے کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اسی طرح کا تعاون جاری رکھیں تاکہ صورتحال پر قابو پایا جاسکے۔
عیدالفطر 2020 کے موقع پر جو کہ 24 مئی 2020 کومنائی گئی اور اُس دن 846کیسز رپورٹ ہوئے یعنی تشخیص کی شرح 15 فیصد تھی اور 15 دن کے اندر یعنی 11 جون 2020 تک یہ تعداد 3038 تک پہچ گئی تھی اور تشخیص کی شرح ریکارڈ 30 فیصد ہوگئی تھی۔ کیسز میں اضافے کی وجہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنا تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عیدالفطر 2021 کے بعد سخت اقدامات کیے اور الحمداللہ ہمارے اقدامات کی بدولت حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے۔
واضح رہے کہ 20 مئی 2021 میں کراچی میں متاثرہ افراد کی شرح 12.86 تھی اور حیدرآباد میں یہ 10.11 فیصد تھی اور 26 مئی کو یہ شرح کم ہوکر کراچی میں 8.34 اور حیدرآباد میں 4.42 ہوگئی ہے۔ 26 مئی تک اس ماہ میں COVID-19 کے 307 مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ، ان میں سے 24 یعنی 66 فیصد وینٹیلیٹر پر تھے ، 60 یعنی 20 فیصد وینٹیلیٹر پر نہیں تھے اور گھر میں 43 یعنی 14 فیصد تھے۔
واضح رہے کہ گذشتہ 23 دنوں کے دوران ، (یکم سے 23 مئی) ، کراچی شرقی میں 24 فیصد ، جنوبی 17 فیصد ، وسطی 12 فیصد ، غربی 11 فیصد ، حیدرآباد میں 11 فیصد کیسز ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 25 مئی 2021 ء تک ، تقریبا 21618 مسافر جناح ٹرمینل پر اترے ہیں اور ان سب کا ٹیسٹ کیا گیا تھا ، اس کے نتیجے میں 50 یعنی 0.23 فیصد مسافروں کی تشخیص مثبت ہوئی ہے۔ 50 مریضوں میں سے 26 صحت یاب ہوچکے ہیں۔
اس وقت کراچی میں 63 مریضوں سمیت 66 مریضوں کی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔ کراچی میں 496 سمیت 618 مریض آکسیجن پر ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری پابندیوں اور کوویڈ ایس او پی ایس کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور پیر کو صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے لوگوں کو ویکسین لگوانے کی تاکید کی جوکہ محفوظ رہنے کے لیے بہت ضروری ہے ورنہ ہم یہاں وائرس پر قابو نہیں پاسکیں گے۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ