چین سے واپس آنے والی پاکستانی لڑکی کے انکشافات نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا

پاکستان میں چینی باشندوں کی جعلی شادیاں اور پیسے دے کر لڑکیوں کی انسانی اسمگلنگ کے اسکینڈل کا دائرہ کار بڑھتا جارہا ہے اور نئے نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں ۔لاہور کی ضلعی عدالت نے جعلی شادیوں کے کیس میں گرفتار مزیدگیارہ چینی ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے ملزمان خواتین سے جعلی شادیاں کرکے انہیں چین منتقل کرتے تھے عدالت نے ملزمان کے خلاف چالان 27 مئی کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے ایف آئی اے نے ملک بھر میں کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے گیارہ مئی کو فیصل آباد میں کاروائی کرتے ہوئے مزید دو چینی باشندوں کو گرفتار کیا گیا تھا اس سے پہلے والی لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دے کر چین لے جانے والے 24 غیرملکیوں کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
چین میں ظلم و زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد پاکستانی سفارتخانے کی مدد سے وہاں سے پاکستان واپس آنے والی لڑکی نے جو واقعات بیان کئے ہیں اس نے پاکستانیوں کے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں اس لڑکی نے ایک فرضی نام حمیرہ کے نام کے ساتھ بتانی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ چین میں جسم فروشی سے انکار کرنے پر اس کے چینی شوہر نے ایک دن سے الٹا لٹکا کر تشدد کا نشانہ بنایا اس کی تصویریں اور ویڈیو بنائی اور پھر ایک ڈاکٹر کو بلا کر اس کے جسم کی پیمائش کی جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ اب وہ میرے جسم کےا عضا بیچنا چاہتا ہے ۔میرا شوہر پاکستان میں پندرہ دن میرے ساتھ رہا یہاں اس نے نہ تو شراب نوشی کی نہ کوئی غلط فعل کیا لیکن چین میں لے جا کر اس نے معاشرہ پوشی بھی شروع کردی اور گا ہکوں کو لے کر آتا اور مجھے مجبور کر تا ان کے ساتھ برا فعل کرو میرے انکار پر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔


حمیرا کے مطابق ان کا خاندان مسیحی خاندان ہے اور ملازمت کے سلسلے میں ان کا خاندان اسلام آباد میں مقیم ہے میں اپنے والد کے ساتھ رہتی تھی خاندان اتوار کو چرچ ضرور جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مقامی چرچ سے منسلک ایک شخصیت نے والد کو چین کا رشتہ بتایا اور یہ بھی بتایا کہ لڑکا مسیح ہے اور سی پیک میں ملازمت کرتا ہے تو میں نے بھی ہاں کردی ۔ہماری شادی گزشتہ سال جولائی میں ہوئی اور میں ستمبر میں چین پہنچ گئی پندرہ دن تک ہم تو پاکستان میں رہے چین میں مجھے ڈاکٹر نامی گاؤں میں لے جایا گیا اس کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ گھر ہے مگر مجھے وہ کبھی بھی گھر نہیں لگا کیونکہ وہ کوئی کلب کی طرح کی چیز ہوسکتی ہے لیکن گھر باہر حال نہیں تھا اس بارے میں جب میں نے زیادہ بات کی تو میرے شوہر نے پہلی مرتبہ مجھ پر ہاتھ اٹھایا اور کہا کہ تمہارے گھر والوں شادی کرانے والوں کو سب کو پیسے دے کر لایا ہوں تمہیں وہی کرنا ہوگا جو میں کہوں گا پاکستان میں میرا شوہر شراب نہیں پیتا تھا مگر چین پہنچتے ہی اس نے سب سے پہلا کام شراب نوشی کیا اور مجھ پر بلاوجہ تشدد بھی کیا جب میں نے اس کو یسوع مسیح کا واسطہ دیا تو وہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا کون سا مذہب اور کس کا مذہب ؟یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے وہ گاہک لاتا میں انکار کرتی تو مجھے مار پڑتی ایک روز اس نے حد کردی مجھے الٹا لٹکا کر برہنہ کیا اور تصاویر اور ویڈیو بناتا رہا میں نے ایک روزہ سے کہا میں تمہاری بیوی ہوں تو مجھے شادی کر کے لائے ہو تو وہ ہنستا رہا اور کہنے لگا تم سے پہلے فلپائن اور بھارت سے بھی ایسی شادیاں کر چکا ہوں اور یہ پہلی شادی ہے مگر جلد ہی دوسری بھی کرے گا جو بات پاکستانی لڑکیوں میں ہے وہ کسی اور ملک کی لڑکیوں میں نہیں ہے جب میرا انتظار بہت زیادہ ہوگیا تو ایک روز ایک ڈاکٹر آیا اور اس نے میرے جسم کا ناپ لیا مسرور مجھے شک ہوگیا کہ اب یہ میرے جسمانی اعضاء فروخت کرنا چاہتے ہیں کئی روز تک میں سو نہیں سکی اس ساری صورتحال کا تجزیہ کیا اور اپنے خاوند سے میں نے جھوٹ بولا کہ ٹھیک ہے میں جسم فروشی کے لیے تیار ہوں مگر کچھ وقت چاہیے میرا کچھ کچھ بدلہ ہوا رویہ دیکھ کر اس نے مجھ پر اعتماد کرنا شروع کردیا ایک روز میں تنہائی میں مجھے موبائل فون استعمال کرنے کا موقع مل گیا اس سے پہلے گھر والوں سے وہ اپنی موجودگی میں بات کرواتا تھا میں نے موقع ملتے ہی اپنے والد کو ساری صورت حال بتا دیں انہوں نے فورا بیجنگ میں سفارتخانے سے رابطہ کیا مجھے امید تھی کہ جلد کچھ نہ کچھ ہو جائے گا دو تین دن ناامیدی میں گزرے اچانک پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار چین کی پولیس کے ہمراہ وہاں پہنچ گئے اور میری وہاں سے جان چھوٹی ہمیں پاکستان آکر ان کے خلاف مقدمہ کروا چکی ہو ں۔


دوسری طرف نارووال کی دو بہنوں کو چینی شہریوں سے شادی ہونے کے بعد عین موقع پر چین جانے سے بچالیا گیا باپ کو جیسے ہی حقیقت کا پتہ چلا اس نے دونوں بیٹیوں کو چھپا دیا اور اور عدالت سے شادی ختم کرانے کے لیے درخواست دے دی باپ کو بعد میں پتہ چلا کہ جس مسیحی پادری نے بچیوں کی شادی کا رشتہ کروایا تھا اس نے 16 لاکھ روپے میں میری دونوں بیٹیوں کو انسانی سمگلروں کے ہاتھوں بیچ دیا تھا شادی کی رسم اسلام آباد کی ایک کوٹھری میں ہوئی جہاں بیس بچیس چائنیز آئے تھے۔
پاکستان میں یہ شکایت بڑھتی چلی جارہی ہیں اور ایف آئی اے کے پاس روزانہ نئے نئے کیسز آرہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں