ذہین طالب علم نے کرپشن اور کالے دھن پر قابو پانے کا طریقہ بتادیا

کرپشن اور کالے دھن پر قابو پانے کے حوالے سے ایک طالب علم نے اپنی ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مضمون لکھا ہے جس میں تجویز دی ہے کہ جس طرح مختلف اشیاء کی ایکسپائری ڈیٹ لکھی جاتی ہے اسی طرح کرنسی نوٹوں پر بھی ان کی ایکسپائری ڈیٹ تحریر کی جائے اور ہر پانچ سال بعد ان نوٹوں کو غیر مؤثر کر دیا جائے اس طرح غیر موثر ہونے کی تاریخ سے پہلے لوگ یہ سارے نوٹ لے کر واپس بینکوں میں آجائیں گے اور اس طرح ساری کرنسی سسٹم میں آجائیگی ۔ذہین طالب علم کی طرف سے پیش کردہ یہ تجویز انتہائی مفید اور قابل عمل قرار دی جا رہی ہے عوامی صداکار حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور عمل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔


یاد رہے کہ بھارت سمیت بعض ملکوں نے اس طرح کے اقدامات کیے تھے اور کرنسی نوٹ تبدیل کرکے کرپشن اور کالے دھن پر قابو پایا تھا کرنسی نوٹ تبدیل کیے جانے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پرانے کرپشن زدہ نوٹ غیر موثر ہو گئے تھے اور بلیک منی سسٹم سے باہر ہوگئی تھی کرپشن پر قابو پانے کا دوسرا ایک اہم طریقہ ماہرین بتاتے ہیں کہ بڑے کرنسی نوٹ ختم کردیے جائیں جس طرح امریکہ میں سب سے بڑا نوٹ سو ڈالر کا ہوتا ہے اسی طرح پاکستان کو بھی 5000 روپے کا نوٹ ایک ہزار روپے کا نوٹ اور پانچ سو روپے کا نوٹ ختم کر دینے چاہیے اور سو روپے کے نوٹ کو زیادہ اہمیت اور طاقت دینی چاہیے ۔کرنسی نوٹاگر چھوٹی مالیت کے ہونگے کرپشن اور کالے دھن والوں کو اسے سنبھالنا اتنا مشکل ہوگا ۔500روپے ہزار روپے اور 5000 روپے کے نوٹ دراصل کرپشن اور کالے دھن والوں کے لئے معاون ثابت ہوتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں