پاکستان پیپلزپارٹی نے پارلیمان سے منظوری کے بغیر آئی ایم ایف سے ڈیل کو مسترد کردیا

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ بیگم نے کہا ہے کہ حکومت کو پارلیمان آکر آئی ایم ایف سے ڈیل کی شرائط بتانا ہونگی، عوام کو اندھیرے میں رکھ کر آئی ایم ایف سے بالا ہی بالا ڈیل کرلی گئی،  وزارت خزانہ کے اہم افسران کو بھی آئی ایم ایف مذاکرات سے لاتعلق رکھا گیا،  اہم ریاستی اداروں پر آئی ایم ایف کے تنخواہ دار مسلط کردئیے گئے، اقساط میں چھ ارب ڈالر سے بجٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ کیسے پورا ہوگا؟ نفیسہ شاہ کا سوال سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں آئی ایم ایف نے آئی ایم ایف سے ڈیل کی ہے،  قرضہ لینے پر خودکشی کو ترجیح دینے والوں کیلئے آئی ایم ایف سے ڈیل شرمناک ہے،  جب آئی ایم ایف سے ڈیل ناگزیر تھی تو نو ماہ تک پس وپیش کرکے خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے؟


 
تبدیلی کا سونامی لانے والے مہنگائی کا سونامی لاچکے ہیں،  عمران خان مہنگائی کا سونامی لاکر عوام کا خون نچوڑنے کے لئے پر تول رہے ہیں،  پاکستان میں پی ٹی آئی نہیں، پی ٹی آئی ایم ایف کی حکومت ہے، جس کا سربراہ آئی ایم ایف خان ہے،  آئی ایم ایف سے ڈیل کے باوجود پی پی نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا،  کمزور اور نااہل حکومت نے آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے،  آئی ایم ایف سے ڈیل کے بعد حکومت اب سینکڑوں ارب روپے کے ٹیکس لگانے کی تیاری کررہی ہے،  پارلیمان کو بائی پاس کرکے آئی ایم ایف سے ڈیل کو مسترد کرتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں