عارف نقوی کے فلاحی ادارے امن فائونڈیشن کو برطانیہ میں بندش کا سامنا

لندن – عارف نقوی کےفلاحی ادارے امن فائونڈیشن برطانیہ کو بندش کا سامنا ہے۔امن فائونڈیشن پاکستان میں تعلیم /صحت اور ایمبولینسز کی فراہمی میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور پاکستان میں امن فائونڈیشن کے قیام پر عارف نقوی اور اہلیہ کو فرانسیسی بینک نے انعام سے نوازا تھا۔ تفصیلات کے مطابق،ابراج کی تباہی کے بعد عارف نقوی کا برطانوی فلاحی ادارہ بھی بندہوسکتا ہے۔امن فائونڈیشن برطانیہ نے عارف نقوی کےپاکستان میں فلاحی منصوبوں کے لیے چندہ اکٹھا کیا تھا۔چیئرٹی کمیشن کا کہنا تھا کہ وہ عارف نقوی کی گرفتاری کے بعد معلومات کا جائزہ لے رہے تھے اور وہ امن فائونڈیشن برطانیہ کے متولیوں سے ادارے کو ممکنہ خطرات سے متعلق بات کریں گے، کچھ روز قبل عارف نقوی کی اہلیہ فائزہ نے کہا تھا کہ امن فائونڈیشن برطانیہ کے متولی ادارے کو چلانے سے متعلق تذبذب کا شکار ہیں۔برطانوی فلاحی ادارہ نقوی خاندان کی جانب سے پاکستان میں قائم کیے گئے امن فائونڈیشن کے لیے چندہ اکٹھا کرتا ہے۔امن فائونڈیشن پاکستان میں تعلیم و صحت سے متعلق کام کرتا ہے اور اس کے قیام پر عارف نقوی اور ان کی اہلیہ کو فرانس کے بینکنگ گروپ بی این پی پریباس کی جانب سے انعام سے نوازا گیا تھا۔امن فائونڈیشن کے کاموں میں ملک بھر میں ایمبولینسز کی فراہمی بھی شامل ہے۔


تاہم ، امریکی حکام کے وکلا کا کہنا ہے کہ امن فائونڈیشن نے ممکنہ طور پر 10لاکھ ڈالرزمیں بےقاعدگی کی ہے۔امن فائونڈیشن برطانیہ کے دفاتر مے فیئر میں ابراج گروپ لندن کے ہیڈکوارٹرز میں ہیں۔امن فائونڈیشن اپنے اکائونٹس فائل کرنے میں بھی ناکام رہا ہے ، جسے اپریل کے آخر تک فائل کیا جانا تھا۔چیئریٹی کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم فی الحال معلومات کا جائزہ لے رہے ہیں ، جس کے بعد ادارے کے متولیوں سے رابطہ کریں گےتاکہ اس معاملے پر ان کا موقف لے سکیں ۔
امن فائونڈیشن برطانیہ میں کسی مالی بے ضابطگی کی اطلاع نہیں ہے، تاہم ادارے کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مطلوبہ رقو م اکٹھا کرنے میں ناکامی کی وجہ سےادارے کو بند کرنا پڑے۔یہ بات واضح ہے کہ عارف نقوی کا امن فائونڈیشن برطانیہ کے معاملات میں کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کے متولیوں میں شامل ہیں۔امریکی حکام کا ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ابراج گروپ کے تحت چلنے والے فنڈز میں سرمایہ کاروں کو دھوکہ دیا ہے اور ذاتی حیثیت میں لاکھوں پائونڈز فائدہ اٹھایا ہے۔


دبئی کی کمپنی کے تباہی سے قبل 14ارب ڈالرز کے اثاثے تھے۔یہ دیوالیہ ہونے والی دنیا کی بڑی کمپنیوں میں سے ایک تھی۔عارف نقوی نے الزامات کو مسترد کردیا تھا ، تاہم وہ رہائی کے لیے ڈیڑھ کروڑ پائونڈز جمع کرانے میں ناکام رہے ہیں۔عدالتی دستاویزات کے مطابق ان کے وکلا نے فلاحی کاموں کا ذکر کیا تھا۔اپنی گرفتاری سے قبل عارف نقوی نےابراج کے دیوالیہ پن کے تناظر میں اپنے خاندان کے فلاحی کاموں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی تھی ۔انہوں نے کہا تھا کہ فائونڈیشن کے مالی امور سے متعلق سوالات سے بہت سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں