آئی ایم ایف 700 ارب روپے کے مزید ٹیکس لگانے پر زور دے رہی ہے ۔سینئر صحافی نجم سیٹھی کا انکشاف

پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے پاکستانیوں کو ڈرا دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان کے لیے فائدہ کم اور نقصان زیادہ نظر آ رہا ہے اگر حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط مان لیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارے گی اور عوام کی چیخیں نکل جائیں گی آئی ایم ایف مزید 700 ارب روپے کے ٹیکس لگانے پر زور دے رہی ہے اسٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ اس کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے اور ایف بی آر کے وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ اتنا ٹیکس کیسے مل سکتا ہے


پہلے ہی جو اہداف ہیں وہ حاصل نہیں ہورہے مارکیٹ میں اتنا کو ٹینشن نہیں ہے لوگوں کی چیخیں نکل گئی ہیں مہنگائی عروج پر ہے مزید ٹیکس لگائیں گے تو لوگ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے لیکن ان لوگوں کو اٹھا دیا گیا جو مخالفت کر رہے تھے اور سٹیٹ بینک طارق باجوہ کی اسی لئے چھٹی ہوئی اب آئی ایم ایف نے اپنے لوگ لگوا لیے ہیں وہ آئی ایم ایف کی باتیں مانیں گے اور عوام کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی آنے والے دنوں میں مزید ٹیکس لگیں گے اور مزید مہنگائی ہوگی اور عوام کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی موجودہ حکومت کے پاس ویسے ہی معاشی ٹیم نہیں ہے اور معیشت کو سمجھنے والے لوگ نہیں ہیں ماضی میں جتنی مرتبہ بھی آئی ایم ایف کے پاس پاکستان کی ہاں اور معاہدے ہوئے ان میں سے ایک آدھ کے علاوہ کوئی بھی ایک معاہدہ مکمل نہیں ہو سکا اس کی وجہ یہی تھی کہ آئی ایم ایف پریشر ڈالتا ہے وہ پاکستانی حکومت برداشت نہیں کر سکتی اگر آئی ایم ایف کی شرائط من و عن تسلیم کریں گے تو عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے اور حکومت کا بیڑہ غرق ہوجائے گا


ماضی میں اسی لیے کوئی بھی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو مکمل نہیں کر سکی ۔عام طور پر آئی ایم ایف دیگر ملکوں کے لیے چھ مہینے بعد عملدرآمد رپورٹ کا جائزہ لیتی ہے لیکن پاکستان جیسے ملکوں کے ساتھ وہ ہر تین مہینے بعد ہیں لوگوں کو بلا لیتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اب تک کیا کیا ہوا ہے اور کیا کہ نہیں ہوا اور پھر وہ ایک ڈکٹیشن دیتے ہیں یہ یہ کام کریں اس طرح اس طرح کریں ایسے کاموں کو کرنا کسی بھی حکومت کے لیے آسان نہیں ہوتا اب جو بھی حکومت آئی ایم ایف کے معاملات پر چلنے کی کوشش کرتی ہے وہ عوامی مقبولیت کھو بیٹھتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں