امریکہ نے پاکستان کو گھیر لیا ہے معیشت پر عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے کنٹرول حاصل کررہا ہے

دنیا پر حکم چلانے کے امریکی شوق اور عزائم پر گہری نظر رکھنے والے بین الاقوامی سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے کی صورتحال واضح طور پر بتا رہی ہے کہ پاکستان کے گرد امریکہ کا گھیرا تنگ ہوچکا ہے امریکہ ایک طرف افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کو استعمال کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان کی کمزور معیشت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے پاکستان کو ڈکٹیشن دے رہا ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف گھیرا تنگ کر رہا ہے اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے پاکستان کو ایران کے خلاف اپنے عزائم کے لیے استعمال کرنے کا کھیل کھیل رہا ہے ۔پاکستان کی کمزور معیشت کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے عارضی آکسیجن فراہم کرکے اپنی شرائط تسلیم کرنے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔


بین الاقوامی سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اب تک امریکہ کی مختلف سازشوں اور چالوں کو اربوں طریقے سے سمجھتے ہوئے وقت پر ناکام بنایا ہے اور اس وقت بھی اس کے تمام حربوں اور سازشوں کو ناکام بنانے کی حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے لیکن پاکستان کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال اصل میں پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کے لیے حاصل تشویشناک ہے ۔بھارت پاکستان کی معیشت کو مزید غیر مستحکم کرنے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا ایک طرف پاکستان کے خلاف عالمی اداروں میں مختلف کیسز بنا کر پیش کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو دنیا میں سیاسی طور پر تنہائی کا شکار کرسکے اور پاکستان پر دہشتگردوں کی حمایت اور مدد کے جھوٹے الزامات لگا کر پاکستان کی پوزیشن اور ساکھ پر سوالیہ نقصانات اٹھا سکے اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور دیگر علاقوں میں راہ کے ذریعے دہشت گردوں کا نیٹ ورک سرگرم کیا ہوا ہے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور فواحش معیشت کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کر رہا ہے۔
پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات اور سی پیک منصوبے کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو ملنے والے استحکام سے امریکہ بھارت اور اسرائیل کا سہ فریقی اتحاد قطعی طور پر خوش نہیں ہے اور وہ پاکستان اور چین کو ایک دوسرے سے بدظن کرنے ایک دوسرے سے دور کرنے ہیں اور ایک دوسرے کے عوام کو ایک دوسرے کے خلاف اکسانے کی سازشیں کر رہا ہے سی پیک منصوبے پر حملوں کی سازش ہورہی ہیں تاکہ چینی ماہرین اور باشندوں کو خوفزدہ کیا جاسکے اور کام کی رفتار سست کی جاسکے ۔اب تک چین اور پاکستان ن نے بڑے مضبوط ارادوں کے ساتھ سی پیک کے خلاف ہونے والی ہر قسم کی سازش کو ناکام بنایا ہے لیکن مشکلات اور چیلنج ابھی کم نہیں ہوئے بلکہ آنے والے دنوں میں مزید مشکل حالات کا مقابلہ کرنا پڑسکتا ہے۔


عالمی سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک طرف افغانستان سے نکلنا تو چاہتا ہے لیکن وہ اس انداز سے نکلنا چاہتا ہے کہ اس کی حیثیت ایک فاتحہ جیسی ہو اور یہ سارا کام اس کے لیے پاکستان کرکے دے ۔دوسری طرف ایران پر بھی اپنا دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اس کے لیے بھی پاکستان کا استعمال چاہتا ہے۔
پاکستان کے لیے اپنے پڑوسی ملکوں کے خلاف امریکی عزائم کے حوالے سے مزید کردارادا کرنا انتہائی خطرناک اور نقصان دہ ہوسکتا ہے اسلئے پاکستان امریکی مطالبات اور عزائم کو سمجھتے ہوئے خود کو پڑوسی ملکوں کے معاملات میں مل جانے سے بچانا چاہتا ہے اور پڑوسی ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوستانہ اور پرامن طریقے سے آگے برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دشمن کیجئے چال ہے کہ پاکستان کو اس کے پڑوسی ملکوں سے کیا جائے نہ صرف ایران اور افغانستان بلکہ چین کے ساتھ بھی ایسے حالات پیدا کرنے کی سازشیں کی جارہی ہے ۔ایسی کسی بھی کوشش کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت کو ہوگا۔

عالمی سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی عسکری قیادت کو اس صورتحال کا ادراک ہے لیکن عوام کو اصل حقائق سے آگاہ رکھنے کی ضرورت ہے اس صورتحال میں پاکستان کے میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے دشمن قوتیں ہیں پاکستان کے میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کن پروپیگنڈے کی سازشیں کررہے ہیں جس پر کڑی نگا ہ رکھنے اور اسکی کاؤنٹر اسٹریٹیجی بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔یہ وقت دفاعی حکمت عملی تیار کرنے کا نہیں بلکہ جارحانہ انداز میں دشمن کو جواب دینے کا ہے اور وقت کا تقاضہ ہے کہ اندرونی خلفشار اور لڑائیوں پر قابو پا کر فی الحال قوم کو یکجا اور متحد رکھا جائے اور اس کام کے لیے سیاسی قیادت کا ساتھ حکومت کو درکار ہوگا اگر حکومت ڈنڈا اٹھا کر سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے پیچھے پڑی رہے گی تو اندرونی خلفشار انتشار اور عدم استحکام میں اضافہ ہوگا جس کا فائدہ بیرونی دشمنوں کو ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں