ڈالر اور روپے کی لڑائی مزید تیز ہوجائے گی ۔ سینئر صحافی اور تجزیہ نگار نے ڈالر مزید مہنگا ہونے کا عندیہ دے دیا

آئی ایم ایف سے چھ بلین ڈالر کا تین سالہ معاہدہ، یہ رقم قسطوں میں وصول ہو گی، پہلی قسط دو سے تین بلین ڈالر اس برس ملے گی، سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس رقم سے پاکستان کا موجودہ معاشی بحران کیسے ختم ہو گا، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کیسے مستحکم ہوں گے، قرضوں کی ادائی کا دباؤ کیسے ختم ہو گا، آئندہ دو سے تین ماہ میں پانچ بلین ڈالر ادا کرنے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈالر پر دباؤ مزید بڑھے گا اور روپے کی قدر میں کمی ہو گی ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ نگار اکرم خان نے پاکستانی معیشت اور آئی ایم ایف کے ساتھ حکومتی مذاکرات پر رابطہ تجزیہ پیش کرتے ہوئے کیا ہے


ان کا کہنا ہے کہ حکومت مداخلت نہیں کر سکے گی کیوں کہ اسٹیٹ بینک خود مختار اور آزادانہ فیصلے کا حامل ادارہ ہو گا اور ڈالر کی شرح مبادلہ اوپن مارکیٹ طے کرے گی۔ افراط زر پر قابو پانے کے لئے شرح سود میں اضافہ کرنا ہو گا جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور صنعت کاری میں کمی ہو گی، روزگار کے مواقع نہیں پیدا ہوں گے، لوگوں کی قوت خرید میں مزید کمی واقع ہو گی، بڑی صنعتوں کی کم ترقی سے چھوٹی اور گھریلو صنعتیں دم توڑ جائیں گی۔ بجٹ خسارہ کم کرنا ہو گا جس کے لئے ٹیکس کے دائرے اور اس کی شرح میں اضافہ کیا جاۓ گا، توانائی کے شعبے میں نقصان پر قابو پانا ہے مطلب گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہو گا، ان اقدامات سے لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس پر شدید مالی دباؤ آۓ گا سرکاری اداروں کا خسارہ ختم کرنا ہے لہذا ان اداروں کی نجکاری لازمی ٹھہری ہزاروں لوگ بے روزگار کئے جائیں گے، سبسڈی کا خاتمہ ہو گا جس سے قیمتوں میں اور اضافہ ہو گا، ترقیاتی اخراجات اضافہ نہیں ہو گا جس کے نتیجے میں نئے منصوبے کم بنیں گے، روزگار کے ذرائع نہیں پیدا ہوں گے اور شرح نمو میں کمی واقع ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں