شادی کا جھانسا دے کر لڑکیاں اسمگل کرنے کی شکایت پر حکومت چین نے پاکستان کی حمایت کردی

پاکستان سے غریب خاندانوں کی معصوم اور مجبور لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دے کر ٹیم اسمگل کرنے اور وہاں لے جا کر ان پر تشدد کرنے کی شکایات پر حکومتی چین نے پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے تمام قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے اور ایسے باشندوں کے خلاف پاکستانی قوانین کے مطابق کارروائی کرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔پاکستان میں یہ شکایات بڑھتی جا رہی ہیں کہ چینی باشندے پاکستان آکر غریب خاندانوں کی معصوم اور مجبور لڑکیوں سے شادی کرکے انہیں چین لے جاتے ہیں اور وہاں ان پر تشدد کرتے ہیں یا انہیں جسم فروشی پر مجبور کرتے ہیں ۔کچھ چینی باشندوں نے مسلمان پاکستانی لڑکیوں سے شادی کرنے کے لئے خود کو جعلی طور پر مسلمان بھی قرار دیا اور جھوٹے سرٹیفکیٹ اور کاغذات پیش کیے لیکن درحقیقت وہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث رہے اور نوجوان لڑکیوں کو شادی کے نام پر اسمگل کر کے جسم فروشی کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ایسی شکایت سامنے آنے کے بعد پاکستان میں ایف آئی اے نے متعدد مقامات پر چھاپے مارے اور چینی باشندوں کو حراست میں لے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کیے ہیں کہیں خاندان اور متاثرہ خواتین بھی سامنے آ چکی ہیں تین جان بچا کر چین سے واپس پاکستان پہنچی ہیں جبکہ ان پر پاکستان میں ہی اپنے اوپر تشدد ہونے کے واقعات کی شکایت کی ہے .


تین کا تعلق پاکستان کے مختلف ضلعوں سے ہے زیادہ تر گوجرانوالہ فیصل آباد سرگودھا سیالکوٹ سے تعلق رکھتی ہیں ان میں مسلمان خواتین کے ساتھ ساتھ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں بھی شامل ہیں چینی باشندوں نے پاکستان میں شادیوں کے لیے میرج بیورو کے افراد کی مدد لیں اور انہیں پیسے دے کر شادیاں کی جبکہ بعض مجبور خاندانوں نے شادی کے سارے اخراجات بھی خود اٹھائے اور اپنی بیٹی کو خوشی خوشی چینی دولہا کے ساتھ رخصت کیا انہیں نہیں معلوم تھا کہ ان کی بیٹی کہاں جارہی ہے اور اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔

یہ معاملہ پچھلے کئی سالوں سے چل رہا تھا اور اس میں اب تک 100 سے زائد لڑکیاں نشانہ بن چکی ہیں لیکن ایف آئی اے کے پاس مکمل ڈیٹا نہیں ہے ماضی میں اس جانب توجہ نہیں دیں گی نہ ہی کوئی ایسی شکایت سامنے آئی تھی اب اچانک یہ شکایات سامنے آئیں اور ایک ٹی وی چینل کی ٹیم نے اس اسکینڈل کو بے نقاب کیا تو گرفتاریاں بھی شروع ہوگئی اور متاثرہ خواتین نے بھی ہمت پکڑ کر عوام کے سامنے اپنی شکایت رکھ دیں اور پولیس تک یہ سنانا شروع ہوگئے سوشل میڈیا نے متاثرہ خاندانوں کو ہمت دی کہ وہ آواز اٹھائیں اور پھر حکومت پاکستان حرکت میں آئی ایف آئی اے متحرک کوئی اور متعدد کیسز درج کرکے گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں ۔


چینی حکومت نے اس سلسلے میں پاکستان کی مکمل مدد کرنے اور پاکستانی قوانین کے مطابق انسانی سمگلنگ میں ملوث چینی باشندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔
متاثرہ خواتین نے پاکستانی لڑکیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ چینی باشندوں سے شادی نہ کریں چینی باشندے زیادہ تر ایک گینگ کی شکل میں کام کر رہے ہیں اور لڑکیوں کو چین اسمگل کرتے ہیں وہاں پر ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور دوستوں سے دوستی پر مجبور کر کے جسمانی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرتے ہیں حرام گوشت کھانے کو دیتے ہیں غیر اخلاقی حرکتیں کر آتے ہیں اور مختصر لباس پہننے پر مجبور کرتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں