نئے پاکستان کے حکمرانوں کا دوہرا معیار … سپریم کورٹ سے نااہل جہانگیر ترین قبول ۔ مریم نواز نا منظور

جب سے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو مسلم لیگ نون میں نائب صدر بنائے جانے کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی گئی ہے تب سے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سیاسی اور قانونی حلقوں میں زبردست تنقید کا نشانہ بن رہی ہے الیکٹرونک پرنٹ اور سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا نئے پاکستان میں پی ٹی آئی کی قیادت میں دوہرا معیار قائم کر رکھا ہے؟
سپریم کورٹ سے نااہل قراردیئے جانے والے جہانگیرترین تو وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی قیادت کو قبول ہیں لیکن مریم نواز کو اپنی ہی پارٹی میں عہدہ دیے جانا ان کے لیے قابل قبول نہیں۔آخر یہ کیسا معیار ہے ؟اور اس معیار کا خالق کون ہے؟


میڈیا کے نمائندے باربار سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور وفاقی وزرا کے سامنے پیش کر رہے ہیں جس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جہانگیر ترین کو ایماندار قرار نہیں دیا جاسکتا ۔جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا جاتا ہے ۔جب سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو ایماندار تسلیم نہیں کیا اور نااہل قرار دے دیا تو پھر وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اپنے ساتھ بٹھانے کی ضد کیوں کرتے ہیں انہیں ٹیکنوکریٹس کے ساتھ اجلاس کرنے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے اور انہیں ٹاسک فورس کا سربراہ کس قانون کے تحت بنائے جاتا ہے؟
احتساب عدالت نے مریم نواز کو اپنے والد کے جرائم کو چھپانے کی سزا سنائی لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ میں وہ سزا بھی معطل کردی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مریم کو صرف مفروضہ پر سزا نہیں سنائی جاسکتی ۔اس حوالے سے مسلم لیگ نون کا کہنا ہے کہ مریم نواز پر لگائے جانے والے الزامات بھول چکے ہیں انہیں سیاسی سفر سے روکا جا رہا ہے ۔جبکہ دوسری طرف جہانگیرترین کو غیر اعلانیہ طور پر نائب وزیراعظم کا درجہ حاصل ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری طنزیہ طور پر جہانگیر کریم کو نائب وزیراعظم بننے پر مبارکباد بھی پیش کر چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جو کچھ مریم نواز اور جہانگیر ترین کے معاملے میں ہو رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جنرل ایوب خان کے دور سے یہ کچھ ہوتا رہا ہے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح پر بھی الزامات لگائے گئے تھے انہیں بھارت اور را کا ایجنٹ کہا گیا تھا انہیں ملک دشمن کہا گیا تھا۔


جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے دور میں بھی مرضی کے لوگوں کو سیاست میں لایا اور پروان چڑھایا گیا ۔آج نیا پاکستان ہے اس کے نئے معیار ہیں اس میں سپریم کورٹ سے نااہل ہونے والا جہانگیرترین تو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خصوصی دعوت پر بیٹھ سکتا ہے لیکن وہ لڑکی جس کے والد کے خلاف سیاسی اختلافات کی بنیاد پر کرپشن کے مقدمات ہیں جس کی والدہ کینسر کے مرض سے لڑتے لڑتے اپنی جان دے چکی ۔وہ لڑکی جسے خود اپنی فیملی سے دور کرکے جیل میں بند کردیا گیا ۔اس لڑکی کو اپنی سیاسی جماعت میں ایک پوزیشن سنبھالنے سے روکا جا رہا ہے تاکہ وہ آنے والے دنوں میں حکمرانوں کے لئے سیاسی خطرہ نہ بن جائے۔کیا یہی ہے نیا پاکستان جس کے لئے لوگوں نے تبدیلی کو ووٹ دیا تھا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں