پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ فراڈ کرنے والے چینی باشندوں کا نیٹ ورک پنجاب کے بعد سندھ میں بھی پہنچ گیا

ایف آئی اے نے تین پاکستانی لڑکیوں کو چین منتقل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ہے چینی نوجوان خود کو ان لڑکیوں کا خاوند ظاہر کرکے انہیں چین لے جانے کے لیے ائیرپورٹ پہنچے تھے درحقیقت یہ نوجوان ان لڑکیوں کو چین سمگل کرنا چاہتے تھے لیکن ایف آئی اے کی بروقت کارروائی سے منصوبہ ناکام ہوگیا اور تینوں چینی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔پاکستانی لڑکیوں کو دھوکے سے چھین لے جانے کے نیٹ ورک دائرہ کار پنجاب سے نکل کر سندھ تک پہنچ چکا ہے سندھ کے مختلف شہروں میں بھی چینی نوجوانوں نے پاکستانی لڑکیوں کو شادی کا جھانسا دے کر چین اسمگل کرنے کی کوشش کی ہے ایف آئی اے نے جن تین لڑکیوں کو پکڑا ہے ان میں سے ایک لڑکی کا تعلق سکھر سے ہے باقی دو لڑکیوں کا تعلق لاہور اور راولپنڈی سے ہے۔


پاکستان میں چینی باشندوں کا معصوم لڑکیوں سے شادی کرکے انہیں چیز لے جانے کا نیٹورک پھیلانے میں پاکستان میں قائم مختلف میرج بیورو شادی گھروں کا بڑا اہم کردار ہے اکثر شادیاں محلوں میں شادی کرانے والی خواتین اور میرج بیورو کے افراد نے کرائی ہے بعض کیسز میں لڑکیوں کے گھر والوں نے بھاری رقم بھی وصول کی ہے اور افسر کیسے زمین لڑکیوں کے خاندان نے سارا خرچہ خود اٹھایا ہے میرج بیورو کے افراد نے دونوں طرف سے فیسیں وصول کرکے یہ شادیاں کرائی ہے ان کے خلاف ایف آئی اے نے کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے ۔جیسے جیسے ایف آئی اے کی کارروائیوں میں تیزی آرہی ہے ملک بھر سے ایسے کیس کی شکایات درج کرانے میں بھی اضافہ ہو رہا ہے شروع شروع میں لوگ خاموش تھے اور یہ کیسے سامنے نہیں آرہے تھے اب سوشل میڈیا پر چند لڑکیوں نے ہمت کی ہے تو ان کی دیکھا دیکھی مزید خاندان بھی اپنے معاملات اور مسائل لے کر سامنے آرہے ہیں ایف آئی اے کو ملک کے مختلف علاقوں سے ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں.


[supsystic-gallery id=105]

اپنا تبصرہ بھیجیں