عمران خان آصف زرداری کو عید سے پہلے جیل میں دیکھنا چاہتے ہیں

قومی احتساب بیورو نیب کی سرتوڑ کوشش ہے کہ جلد از جلد آصف علی زرداری کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش کا عمل آگے بڑھایا جائے اور جعلی اکاؤنٹس کیس کے ساتھ ساتھ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات کو ثابت کر کے عدالت سے انہیں سزا دلائی جا سکے ۔
نیب نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف سرکاری اختیارات کے غلط استعمال اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا ایک اور مقدمہ کی تیار کرلیا جو سندھ میں پانی کی فراہمی کے ٹھیکے Harish اینڈ کمپنی کو دینے اور یہ فنڈز درحقیقت نوڈیرو ہاؤس پر خرچ کرنے کا الزام ہے نیب اب تک چار مقدمات میں سابق صدر آصف علی زرداری کو کال ا پ نوٹس دے چکا ہے چاروں معاملات میں آصف علی زرداری کو عبوری ضمانت مل چکی ہے آصف زرداری کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ نیب دیگر اداروں سے کہا جائے کہ ایک دفعہ بتائیں کہ کتنے مقدمات ہیں یا وہ کتنے مقدمات مزید بنانا چاہتے ہیں ان کی تفصیلات فراہم کی جائیں ۔آصف زرداری کے وکلاء نے آئینی اور قانونی حوالے دیتے ہوئے اعتراض اٹھایا ہے کہ ایک ہی معاملے میں بار بار سزا نہیں دی جاسکتی ایک ہی معاملے میں بار بار مقدمات نہیں بنائے جاسکتے جتنی انکوائریاں اور مقدمات ہیں ایک مرتبہ بتایا جائے ۔آصف زرداری کے وکلا نے موقف اختیار کیا ہے کہ آصف زرداری پورے سیاسی کیریئر میں سیاسی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنائے گئے ہیں ان کا ہمیشہ میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے ماضی میں ان پر جتنے بھی الزامات لگا کر ان کو 11سال درجے میں رکھا گیا وہ الزامات کہیں ثابت نہیں ہوسکے ایک مرتبہ پھر ان کے خلاف جھوٹے الزامات لگا کر مقدمات بنائے جارہے ہیں اس اب کچھ سیاسی انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہے ۔
دوسری طرف آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کے خلاف بھی مقدمات میں تیزی آ گئی ہے ۔



وکلاء کے مطابق آصف زرداری اور فریال تالپور کے خلاف مقدمات میں 15 مئی کی تاریخ اہم ہے دونوں کی عبوری ضمانت اور مقدمات کی تاریخ کی ہی ہے ایک مقدمے کی سماعت 21 مئی تک ملتوی کی گئی ہے مئی کا مہینہ وزیراعظم عمران خان کے سیاسی مخالفین کے لیے نہایت اہم ہے نواز شریف دوبارہ جیل میں قید ہو چکے ہیں اور آصف زرداری کو بھی عمران خان جلد از جلد بلکہ عید سے پہلے جیل میں دیکھنا چاہتے ہیں وزیراعظم عمران خان بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے نا ڈیل ہوگی نہ ڈھیل دیں گے ۔
بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کو مسلسل دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اپوزیشن خان کی حکومت کے خلاف کوئی مشترکہ تحریک یا لانگ مارچ دھرنا وغیرہ پلان نہ کر سکے ۔پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی بھی کچھ ایسی ہے کہ وہ جاتی ہے کہ مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے قریب نہ آ سکیں اور ان دونوں کی سیاسی قیادت مقدمات اور عدالتوں کے چکر لگانے اور جیلوں میں آنے جانے میں الجھی رہے تاکہ انہیں اپنی حکومت چلانے کا موقع مل سکے اور ایک منتشر اور مشکلات میں گھری ہوئی اپوزیشن ان کی حکومت کے خلاف کوئی بڑا احتجاج کرنے کی ہمت نہ کر سکے ۔سیاسی مبصرین کے مطابق اب تک پی ٹی آئی کی حکومت وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھی اپنی اس حکمت عملی میں کافی حد تک کامیاب ہیں اور بظاہر آنے والے کے آٹھ مہینے میں انہیں کوئی بڑا خطرہ درپیش نہیں ہے کیونکہ آپ نواز شریف اور آصف زرداری مقدمات میں الجھے ہوئے ہیں اور ان میں سے ایک جیل کے اندر اور دوسرا جیل سے باہر ہے اس لیے وہ ہاتھ ملانے کی پوزیشن میں نہیں ہے اب تک وزیراعظم عمران خان کی سیاست کامیاب ہے اور وہ اپوزیشن کو تقسیم رکھنے میں پوری طرح کامیاب نظر آتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں