اسحاق ڈار کے ملک سے فرار ہونے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

پی ٹی آئی حکومت کا بس نہیں چل رہا کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو گرفتار کرکے پاکستان لے آئے اور جیل میں ڈال دے۔سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بیرون ملک بیٹھ کر حکومت کے لیے مشکلات بڑھا سکتے ہیں۔
کپتان اور انکی ٹیم پوری کوشش کر رہی ہے کہ کسی طرح اسحاق ڈار کے گرد گھیرا تنگ ہو اور انہیں وطن واپس لاکر ان کا وہی حشر کیا جائے جو اس سے پہلے ان کے سمدھی نوازشریف کا کیا جا رہا ہے ۔
ویسے یہ سچ ہے کہ نوازشریف کو باہر سے پکڑ کر نہیں لایا گیا وہ خود گرفتاری دینے کے لیے پاکستان آئے تھے اور یہ بھی اپنی نوعیت کی واحد مثال تھی ورنہ نوازشریف بھی چاہتے تو گرفتاری سے بچنے کے لئے بیرون ملک قیام کر سکتے تھے ماضی میں بےنظیر بھٹو سمیت دیگر کئی سیاستدانوں نے ایسا کیا تھا۔
سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو کب اندازہ ہوا کہ انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے اور انہوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پاکستان سے فرار کا منصوبہ کیسے بنایا اور اس پر عمل کیسے کیا اس حوالے سے لوگوں کے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں اور یہ سوالات اٹھائے بھی جاتے ہیں کہ اسحاق ڈار کو ہمارے اداروں نے باہر کیوں جانے دیا گرفتار کیوں نہیں کیا ایئرپورٹ پر روکا کیوں نہیں؟
اسحاق ڈار پاکستان میں ایک سے زائد مقدمات میں مطلوب ہیں اور ان کے خلاف پانامہ لیکس کے تناظر میں نیب ریفرنس بھی ظاہر ہے جس میں وہ اشتہاری قرار دیے گئے ہیں۔
مسلم لیگ نون کے سیاسی مخالفین کی تاثر دیتے ہیں کہ اسحاق ڈار کو ملک سے فرار کرانے میں شاید خاقان عباسی کا ہاتھ تھا۔
پاکستان کے ایک سینئر صحافی محمدمالک انکشاف کر چکے ہیں. 
کے اسحاق ڈار کو ڈر تھا کہ وہ اسلام آباد ایئرپورٹ سے پکڑ لئے جائیں گے لہذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ لاہور سے وزیر اعلیٰ کے پروٹوکول کے ساتھ انہیں روانہ کیا جائے۔
اس دوران دوشنبہ کانفرنس کا دعوت نامہ آگیا بظاہر وہ کانفرنس اتنی ضروری نہیں تھی لیکن اسحاق ڈار نے اس موقع پر یہ سوچا کہ ملک سے باہر جانے کا یہی بہترین موقع ہے انہوں نے کانفرنس میں جانے کا فیصلہ کیا لیکن اس روز دوشنبے کے لیے کوئی فلائٹ دستیاب نہیں تھی جس پر انہوں نے وزیراعظم کا جہاز لیا اور ملک سے فرار ہوگئے یوں انہیں ملک سے فرار کرانے میں شاید خاقان عباسی کا ہاتھ ہے۔
دوسری طرف سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی آج بھی کہتے ہیں کہ اگر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار مجھ سے پوچھیں تو میں انہیں یہی مشورہ دوں گا کہ پاکستان واپس آئیں ۔شاید خاقان عباسی نے موقف اختیار کیا کہ میں یہ مشورہ اس لیے دوں گا کیونکہ یہاں پر انصاف نہیں ہے اور یہ سلوک صرف مسلم لیگ نون کے ساتھ ہو رہا ہے بہتر ہوگا جو کوئی بھی اس وقت اس ملک سے باہر ہے وہ وہیں رہے پاکستان نہ آئے اگر اس پر پاکستان میں کوئی الزام نہیں ہے تو پھر بھی واپس نہ آئے کیونکہ یہاں پر صرف اس کی تذلیل ہوگی میاں نواز شریف ملک سے باہر تھے لیکن جب انہیں سزا دی گئی تو وہ واپس پاکستان آگئے تھے اور اب یہاں پر سزا بھگت رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں