مسلم لیگ نون کے لوگ شہبازشریف کی طرف دیکھیں یا مریم کی طرف؟

مستقبل میں پاکستان کے سیاسی منظر نامے کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں نواز شریف آصف زرداری اور شہباز شریف کا براہ راست پارٹی قیادت پر کنٹرول کم ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے اور دونوں بڑی جماعتیں نوجوان قیادت بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے پاس جاتی ہوئی نظر آرہی ہیں ۔کافی عرصے سے یہ صورتحال آگے کی جانب بڑھ رہی تھی لیکن سیاسی جماعتوں کی قیادت اس کا اعلان نہیں کر رہی اس کی ایک بڑی وجہ اس کی مقدمہ بازی اور عدالتوں کی پیشیاں ہیں۔
سیاسی ماہرین سمجھتے ہیں کہ آپ پاکستان پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ نون اسکی پارٹی پالیسیوں میں نوجوان خون کو عمل دخل حاصل ہونے جارہا ہے مقتدر حلقے بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان جماعتوں کی پالیسی سازی پرانے  لوگوں کے ہاتھوں سے نکل کر نوجوانوں کے ہاتھوں میں چلی جائے لیکن بلاول کی حد تک تو سب کو اطمینان ہے مریم پر اعتراضات باقی ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں عہدیداروں اور کارکنوں کے لئے بالکل واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کا لیڈر بلاول ہوگا لیکن مسلم لیگ نون کے لوگوں کے لئے سب سے بڑی پریشانی ابھی تک یہ ہے کہ وہ شہبازشریف کی طرف دیکھیں یا مریم کی طرف؟
شہباز شریف اپنے والد کی زندگی میں بڑے بھائی کا احترام کرتے رہے والد کی وفات کے بعد بھی انھوں نے بڑے بھائی کا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔لیکن وہ خود وزیراعظم نہیں بن سکے ہمیشہ چھوٹے ہی رہے اور ان کے اور ان کے خاندان کے حصے میں پنجاب کی حکومت دی گئی وفاقی حکومت سے ان کو دور رکھا گیا۔
مسلم لیگ نون کے اندر ہر دوسرا شخص یہ سمجھتا ہے کہ سارا ووٹ بینک نواز شریف کا ہے شہبازشریف نے محنت ضرور کی ہے پنجاب کو بہت عمدگی سے ضرور چلایا ہے لیکن ووٹ بینک بڑے میاں صاحب کا ہے۔
مسلم لیگی کارکنوں سے لے کر سیاسی مبصرین تک سب اس بات پر متفق ہیں کہ شہباز شریف نے ڈھیلی ڈھالی نرم پالیسی سیاست میں رکھیں اس لیے وہ پیچھے رہ گئے اور میاں نوازشریف نے غلام اسحاق خان سے لے کر آج تک جو لڑائی شروع کی اس پر وہ اپنے موقف پر قائم رہے اپنا بیانیہ نہیں بدلا اپنے کارکنوں اور حامیوں کو دھوکا نہیں دیا اس لیے اصل ووٹ بینک نواز شریف کے پاس ہے۔
آنے والے دنوں میں نواز شریف یہ ووٹ بینک اپنے پاس رکھتے ہیں شہبازشریف کو دیتے ہیں یا مریم نواز کو منتقل کرتے ہیں اس کا فیصلہ آنے والے حالات کے مطابق ہوگا۔
مظاہر وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت کو گرائے جانے کا فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے یہ الگ بات ہے کہ حکومت جس طرح کی حماقتیں کررہی ہے اگر اس نے اپنے پاؤں پر کوئی کلہاڑی مارلی تو اس کی رخصتی کا عمل شروع ہو جائے گا۔
پاکستان کے ایک معروف صحافی تجزیہ کار مبشر زیدی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ نومبر میں آرمی چیف کی تبدیلی بھی ہے دیکھیے اب آگے اس ملک میں کیا ہوتا ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ نومبر میں تبدیلی ہوگی یا توسیع بھی ہوسکتی ہے ۔آنے والے حالات اس فیصلے سے جڑے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں