سمندری تجارت کو مضبوط بنانا ہوگا پاکستان کے پاس کنٹینر کیریئر ہونا چاہیے- طارق حلیم

طارق حلیم کا شمار پاکستان کے نامور بزنس کمیونٹی لیڈرز میں ہوتا ہے آپ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر رہ چکے ہیں پاکستان کے تجارتی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور پاکستان کی معیشت کی بہتری اور تجارت کے فروغ کے لیے ہمیشہ مثبت تجاویز مختلف فورمز پر دیتے رہتے ہیں وزیراعظم عمران خان نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے تاریخ تعلیم کی ہی باتیں کرتے آرہے ہیں کہ پاکستان کو اپنی بندرگاہوں کے دستیاب بہترین وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے کسی بھی ملک کی خوش قسمتی ہوتی ہے جو اس کے پاس سمندر ہو اور پاکستان کو اللہ تعالی نے نہ صرف بہترین سمندر دیا ہے بلکہ شاندار بندرگاہیں دی ہیں جن پر بہترین مواقع موجود ہیں ہمیں صرف ان بہترین مواقعوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی تجارت کو فروغ دینا چاہیے جب قدرت نے ہمیں بہترین مواقع میسر کر رکھے ہیں تو پھر دیر کس بات کی ہے تھوڑا سا سوچنے اقدامات اٹھائے اور پھر فائدہ ہی فائدہ ۔
گزشتہ دنوں جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے ایک خصوصی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے نامور بزنس کمیونٹی لیڈر طارق حلیم ننے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ سمندری تجارت کو مضبوط بنائے پاکستان کے پاس کنٹینر کیریئر ہونا چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ سمندر کے وسائل کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنا چاہیے پاکستان کو اللہ تعالی نے ابھی حیات کے حوالے سے بھی مالا مال کر رکھا ہے اگر ہم سمندری حیات کو بہتر طریقے سے استعمال میں لانے کی کوشش کریں تو اپنی ماہی گیری اور خچر اس کو فروغ دے سکتے ہیں لیکن ہم نے کراچی جیسے بڑے شہر کو نظرانداز کیا ہوا ہے کراچی کا سارا کام تو اٹھا کے سمندر میں پھینک دیتے ہیں ڈی سیلینیشن پلانٹ بھی لگانا چاہیے اور ٹریٹمنٹ پلانٹس بھی لگنا چاہیے تاکہ جو پانی میں گھر جا رہا ہے وہ روکا جاسکے اور پانی کو ٹریٹ کیا جائے جتنا سمندری پانی کو کھانے سے میٹھا بنانے کے پلانٹ دنیا بھر میں لگے ہوئے ہیں ہم بھی یہ کام کر سکتے ہیں پانی میں رہائشی ضرورت کے مطابق پانی کی کمی ہے اس پانی کی کمی کو بھی دور کیا جا سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ صنعتی اور کمرشل استعمال کیلئے بھی پانی درکار ہے ۔
طارق علیم نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سمندری وسائل کی اہمیت کو پہچانے اس کا احساس کریں جس کا ادراک رکھیں اس سے مستفید ہونے کی کوشش کریں دنیا میں بے شمار ممالک ایسے ہیں جو سمندری وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں معیشت کو مضبوط بنا رہے ہیں پاکستان بھی بآسانی ایسا کر سکتا ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ ایشیا میں 17 سو بیس سے مختلف بندرگاہیں اور گھٹیا کام کر رہی ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سمندری تجارت کو ملکوں نے کتنی اہمیت دی اور راہداریوں کے ذریعے لوگوں نے فائدہ اٹھائے پاکستان کو بھی چاہیے کہ اپنی بندرگاہوں کو فروغ دے مزید بندرگاہیں اور جیٹیاں قائم کرے اور جو بندرگاہیں اور جیٹیاں موجود ہیں ان کو مستحکم کرکے یہاں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں