پولیس کے اعلیٰ افسران کے تقرروتبادلوں کے اختیارات کامعاملہ طے – ڈی آئی جی سطح کے علاوہ سندھ پولیس میں تمام افسران کے تقرروتبادلوں کا اختیارصرف آئی جی سندھ کے پاس ہوگا

کراچی -پولیس آرڈر2002 ترمیمی بل میں پولیس کے اعلیٰ افسران کے تقرروتبادلوں کے اختیارات کامعاملہ طے پاگیا،حکومت نے ڈی آئی جی سطح کے پولیس افسران کے تقرروتبادلوں کا مشترکہ اختیاروزیراعلیٰ اورآئی جی سندھ کودینے کا اپوزیشن کا مطالبہ مان لیا،ڈی آئی جی سطح کے علاوہ سندھ پولیس میں تمام افسران کے تقرروتبادلوں کا اختیارصرف آئی جی سندھ کے پاس ہوگا،ہنگامی طورپرکسی بھی اعلیٰ پولیس افسرکومعطل کرنے کا اختیاروزیراعلیٰ سندھ کودینے کی بھی منظوری،برطرفی کے الزامات اوربحالی سے متعلق حمتی فیصلہ پبلک سیفٹی کیشن کرے گا۔سندھ میں پولیس کے لیے نئے قانون کے نفاذ کے معاملے پرڈیڈلاک کا شکارحکومت اوراپوزیشن کی مشاورت میں ہفتے کے روز پیش رفت ہوئی ہے اورپولیس آرڈر2002ترمیمی بل میں پولیس کے اعلیٰ افسران کے تقرروتبادلوں کے معاملے پرحکومت نے اپوزیشن کی تجاویز تسلیم کرلی ہیں ۔ ترمیمی بل کے تحت حکومت نے اعلیٰ پولیس افسران کے تقرروتبادلوں کا اختیاروزیراعلیٰ سندھ اورصوبائی وزیرداخلہ سندھ کودینے کی تجویزشامل کی تھی جس کی اپوزیشن نے مخالفت کی۔


ہفتے کوسندھ اسمبلی میں ہونے والی مشاورت میں اپوزیشن نے وزیراعلیٰ سندھ کوپولیس کے اعلیٰ افسران کے تقرروتبادلوں کے ضوابدیدی اختیارات کی مخالفت کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ ڈی آئی جی سطح کے پولیس افسران کے تقرروتبادلوں کے اختیارات میں آئی جی سندھ کا اختیاربھی شامل کیا جائے۔اجلاس میں طویل مشاورت کے بعد طے پایا کہ سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران کے تقرروتبادلوں کے لیے وزیراعلیٰ سندھ اورآئی جی سندھ کو مشترکہ اختیارتفویض کیا جائے جس کے تحت سندھ بھرمیں ڈی آئی جی کی تقرری کے لیے آئی جی سندھ کے تجویز کردہ تین ناموں میں سے وزیراعلیٰ سندھ کوکسی ایک افسرکے تقررکا اختیارہوگا اورآئی جی سندھ کے بھجوائے گئے تین ناموں کے علاوہ باہرسے کسی افسرکا تقررنہیں کیا جاسکے گا۔ علاوہ ازیں سندھ پولیس میں ڈی آئی جی رینک سے نیچے کے تمام افسران کے تقرروتبادلے آئی جی سندھ کریں گے جس میں صوبائی حکومت مداخلت نہیں کرے گی۔ اجلاس میں ایم کیوایم پاکستان کے خواجہ اظہارالحسن نے تجویز پیش کی کہ ہنگامی صورتحال میں وزیراعلیٰ سندھ کوکسی بھی پولیس افسر کومعطل کرنے کا اختیاردیا جائے تاہم پولیس افسرکومعطلی کے معاملے پراپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے صوبائی اورضلعی پبلک سیفٹی کمیشن میں جانے کا حق ہوگا اوربے گناہی کی صورت میں پبلک سیفٹی کمیشن پولیس آفیسرکوبحال کرسکے گا۔ اجلاس میں صوبائی وزیرزراعت اسماعیل راہو،صوبائی وزیربلدیات سعید غنی،اپوزیشن کی طرف سے فردوس شمیم نقوی، خواجہ اظہارالحسن،حلیم عادل شیخ،شہریارمہر،محمدحسین دیگرنے شرکت کی۔ اجلاس پیرکودوبارہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں