انڈس اسپتال کے پیڈیاٹرک کمپلیکس کا افتتاح

کراچی –  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی کابینہ میں ردوبل کرنے کے تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ انکی کابینہ ابھی تک نامکمل ہے، جب یہ مکمل ہوگی تو اس میں تبدیلی ممکن ہوسکے گی۔ یہ بات انھوں نے جمعہ کے روز انڈس اسپتال کے پیڈیاٹرک کمپلیکس کے افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔ اس دورے میں مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کابینہ میں ردوبدل کرنے کی کوئی بھی تجویز زیر غور نہیں۔ مزید کہا کہ میری کابینہ ابھی ناممکمل ہے، لہٰذا تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تاہم جب وزراء کابینہ کا حصہ بن جائیں گے تو اسے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ سندھ کی تقسیم سے متعلق گورنر سندھ کے بیان پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ناقابل یقین بیان ہے اور انھیں ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کہا کہ کراچی سے متعلق سپریم کورٹ کا حکم نامہ نہیں پڑھا جس میں تجاوزات کے خاتمہ سے متعلق کہا گیا ہے۔


انھوں نے کہا کہ ایک نیوز چینل کے ٹکرز سے معلوم ہوا ہے، آرڈرز آئیں تو میں ان پر تبصرہ کرنے کی حیثیت رکھوں گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ایس ڈبلیو ایم اے) کو جنوبی اور شرقی اضلاع میں صفائی ستھرائی کے کام کو بہتر بنانے کے لیے واضح ہدایات دی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں ملیر میں صفائی ستھرائی کے کام سے مطمئن نہیں ہوں، لہٰذہ وہاں کام کرنے والے ٹھیکے دار کمپنیوں کو نوٹس دیئے گئے ہیں۔ پھل، سبزیوں و دیگر روزمرہ کی خوردنوش اشیاء کی قیمت میں اضافہ سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انھوں نے ڈویژنل انتظامیہ کو متحرک کیا ہے۔ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران کھانے پینے کی اشیاء کو جانچنے اور قیمت کنٹرول کو نافذ کرنے کے لیے سڑکوں پر موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ آج تیسرا روزہ ہے اور تین دن کے اندر کمشنر نے دکانوں اور مصنوعی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے والے اسٹال مالکان سے 6 ملین ورپے وصول کیے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ مختلف دیگر وجوہات، پالیسز اور نااہلی کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس پر انھوں نے کہ اکہ وہ مناسب وقت دیکھ کر بات کریں گے۔



[supsystic-gallery id=104]
انڈس اسپتال… پیڈیاٹرک کمپلیکس کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ انڈس اسپتال کے لیے میرے دل میں ایک خاص مقام ہے جسکا پاکستان کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں قیمتی حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ بدین میں ہمارے ضلعی اسپتال کو انڈس چلا رہا ہے جہاں پر بہترین کام ہورہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ کام کرنا مشکل ہے لیکن باوجود اسکے انڈس کی ورکنگ دن بدن بہتر ہورہی ہے،میں ہمیشہ اچھی صحت کی سہولیات کیلیے انڈس کے ساتھ ہوں۔ انھوں نے کہا کہ میں بہت زیادہ نیچر فارورڈ لوکنگ ہوں، جو وعدہ کرتا ہوں اللہ پاک اسے پورا کرتا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ آج کل صوبے کی مالی صورتحال اچھی نہیں،اس کے باوجود ہم آپ کے 1000 بستروں کا اسپتال تعمیر کرنے میں آپکی مدد کریں گے۔ مزید کہا کہ اگر بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوجائے تو قابل علاج ہوتی ہے، اس لیے ہم کوشش کررہے ہیں کہ شروعاتی تشخیص کے نظام کو ترقی دے رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ گمبٹ انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ سائنسز ایک پبلک سیکٹر میں ہماری اچھی سہولیات ہیں جہاں افغانستان سے بھی مریض آتے ہیں اورہم دیہی علاقوں میں آنکلوجی سہولیات بنا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا وسائل جیسے بڑھیں گے ہم صحت کی سہولیات میں سرمایہ کاری کریں گے، اس سال این آئی سی وی ڈی 13 ارب روپے بجٹ ڈیمانڈ ہے، اور جب ہم نے این آئی سی وی ڈی لی تھی تو اس کا 700 ملین روپے بجٹ تھا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر ادیب رضوی اتنا اچھا کام کرتا ہے تو انکو فنڈ دیتا ہوں، کیوں کہ مجھے فنڈز کے غلط استعمال کا خوف نہیں ہوتا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے سول سوسائٹی سے استدعا کی کہ اگر سول سوسائٹی ہمارے ساتھ مل جائے تو ہم بہترین کام کرسکتے ہیں۔


150 بستر پر مشتمل انڈس اسپتال 2007 میں شروع ہوا، جس میں ہر مریض کے لئے جدید ریاستی ، متحدہ صحت کی دیکھ بھال کی سہولت بلکل مفت معیاری علاج فراہم کرتا ہے ۔ کام کی گنجائش میں اضافہ کے بعد انڈس اپستال نے سندھ ہیلتھ نیٹ ورک (آئی ایچ این) میں تبدیل کیا۔ نیٹ ورک پاکستان بھر میں مختلف عوامی اور نجی اسپتالوں کی ترقی اور انتظام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے ۔ نیٹ ورک ملک میں ملیریا، ایڈز اور ٹی بی کے آؤٹ پلے پروگرام بھی کر رہا ہے۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ نے انڈس اسپتال کا دورہ کیا، وزیراعلیٰ سندھ کے پہنچے پر اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر عبدالباری نے انکا استقبال کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پیڈیاٹرک کمپلیکس کا افتتاح کیا ۔
وزیراعلیٰ سندھ بچوں کے مختلف وارڈز میں گئے اور ڈاکٹر ز سے بچوں کے علاج کے متعلق معلومات لیں ۔ انہوں نے بچوں کے ڈاکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ بچوں کے بہتر علاج کے ساتھ ساتھ ان کی خوراک کا بھی خیال رکھیں ۔ انہوں نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں