کراچی سرکلر ریلوے 43 کلومیٹر طویل ہے 24 اسٹیشن بحال ہوں گے

سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کو ایک مہینے میں بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے پاکستان ریلوے اسٹیشن حکومت اور مقامی انتظامیہ سمیت دیگر متعلقہ ادارے مل کر عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے کراچی سرکلرریلوے 45 کلومیٹر طویل ہے اس پر 24 اسٹیشن بحال کیے جائیں گے 2013 میں جاپان انٹرنیشنل کار پیشن ایجنسی JICA نے جو اسٹڈی رپورٹ تیار کی تھی اس سروے کے مطابق 4653 خاندانوں کو یہاں سے منتقل کیا جانا ہے یہ لوگ کراچی سرکلر ریلوے کی ٹریک کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں حکومت نے ان کو متبادل جگہ فراہم کرنی ہے اور ان کو منتقل کرنے کا انتظام کرنا ہے ماضی میں انہیں منتقل کرنے کی کی گئی کوششیں لوگوں کے مشتعل ہونے کی وجہ سے ناکام ہوچکی ہیں سب سے زیادہ مسئلہ الہ دین اور سفاری پارک کے درمیانی علاقوں میں ہے اس کے علاوہ بھی شہرکے مختلف علاقوں میں جہاں کراچی سرکلرریلوے گزرتی تھی وہاں تجاوزات قائم کیے گئے اور ٹریک کو اکھاڑ دیا گیا اور وہاں پر سڑکیں بچھا دی گئی ریلوے کی زمین پر پکی تعمیرات بھی کی گئی ہیں اور ان تجاوزات پر مبنی امکانات دکانوں اور دیگر تعمیرات کو بجلی گیس پانی کا کنکشن مہیا ہیں ۔


یہ تمام قبضہ مقامی انتظامیہ مقامی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں کے سامنے ہوئے اس وقت کسی نے انہیں نہ روکا نہ ٹوکا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قبضہ مافیا مضبوط ہوگیا اور ریلوے کا ٹریک کو ہوائوں ہوتا گیا ۔ڈاکٹر عشرت العباد جب تک گورنر تھے ان کے دور میں ایک مرتبہ گورنر سندھ نے مختلف افسران کو ساتھ لے کر ریلوے انتظامیہ کے ہمراہ سٹی اسٹیشن سے گیلانی اسٹیشن گلشن اقبال تک سفر کیا تھا تاکہ کراچی سرکلر ریلوے کو مکمل طور پر بحال کیا جا سکے لیکن اس کے بعد یہ منصوبہ آپ ہو گیا تھا ۔ماضی میں جو کراچی کے حالات خراب تھے تو ایک لوکل ٹرین کو نذر آتش بھی کیا گیا تھا ۔
کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ 1969 میں شروع ہوا اور انیس سو ننانوے ترک بہت کامیابی سے چلتا رہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں