قینچی کے بجائے چاپڑ سے بال کاٹنے والا ماہرنائی

لاہور سے تعلق رکھنے والے علی عباس قینچی کے بجائے لوگوں کے بال آگ، ٹوٹے ہوئے گلاس اور گوشت کاٹنے والے چاپڑ سے تراشتے ہیں۔

علی عباس شروع سے ہی نئے اور منفرد آئیڈیاز متعارف کروانے کے شوقین رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایک دن ان کے دماغ میں اس کا آئیڈیا آیا جس پر کام شروع کیا۔

آگ سے بال تراشنے کے لیے علی بلو ٹارچ کا استعمال کرتے ہیں جو عام طور پر اسٹیل کی شکل تبدیل کرنے یا میٹل کو مختلف انداز میں ڈھالنے کے کام آتی ہے، ساتھ ہی ان کے ہاتھ میں کٹنگ بورڈ بھی موجود ہوتا ہے جسے بالوں سے لگا کر وہ اندازے کے مطابق بال کاٹتے ہیں