کراچی گرین لائن بس منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر سپریم کورٹ کی برہمی

کراچی میں گزشتہ پانچ سال سے زیر تعمیر گرین لائن بس منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر سپریم کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ Green Line BRTS منصوبے کی تکمیل کا کام اس وقت کراچی انفرسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ KIDCL کی ذمہ داری ہے جس نے کراچی پیکج کے تحت اس منصوبے کو مکمل کرنا ہے۔
منصوبے کو آگے بڑھانے والی کمپنی کا مقامی انتظامیہ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے ساتھ فنڈز کے معاملات پر تنازعہ ہے فنڈز میں تاخیر ہونے کی وجہ سے منصوبہ مکمل ہونے کی طرف نہیں بڑھ رہا شہری پریشان ہیں عادل شہر کے لوگوں کو اس منصوبے کے تعمیراتی کام کی وجہ سے پریشانی برداشت کرنا پڑی ہے لیکن یہ منصوبہ ہر سال مکمل ہونے کی بجائے تاخیر کا شکار ہوتا جا رہا ہے ۔عدالت نے اس صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
25 ارب روپے کے فنڈز پر سب کی نظریں لگی ہیں لیکن عدالت نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی کو بھی بھلا نہیں کرنے دیں گے اور اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنا ہوگا ۔عدالت نے ایک کمپنی کے سی ای او اور کے ایم سی اور حکومت سندھ کے حوالے سے بھی برمی کا اظہار کیا اور اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔


واضح رہے کہ وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ کراچی میں گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم جولائی 2019 سے پہلے مکمل کرلیا جائے گا اس منصوبے کو مکمل کرنے کی ڈیڈلائن 30جون 2019 ہے لیکن وہ یہ بات بتانے سے قاصر رہے تھے کہ آیا یہ منصوبہ اپنے مقررہ تاریخ پر مکمل ہوکر شروع ہو جائے گا یا نہیں۔
25 ارب روپے مالیت کے اس اہم منصوبے کا سنگ بنیاد سابق وزیراعظم نواز شریف نے 2016 میں رکھا تھا یہ پروجیکٹ کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن سے شروع ہوکر گرومندر مزارقائد تک جاتا ہے یہ 17.8 کلومیٹر طویل منصوبہ ہے جس میں یہ نو کلومیٹر سے زیادہ روڈ بالائی گزر گاہ کے طور پر اور سات کلومیٹر کے فاصلے کو زمینی فاصلے کے طور پر طے کیا گیا ہے اس پر 21 جدیدترین اسٹیشن بنائے جانے تھے ایک اندازے کے مطابق یہاں پر تین لاکھ مسافروں کو روزانہ سفر کی جدید سہولتیں میسر آنی تھی۔


اپنا تبصرہ بھیجیں