نواز شریف دور میں پاکستان کا تیس ارب ڈالر غیر ملکی قرضہ واپس کیا گیا ۔ سینیٹ میں پی ٹی آئی حکومت کا اعتراف

جلسے جلوسوں بیانات اور الزامات کی سیاست اپنی جگہ لیکن پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کو وزیراعظم عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت نے بتاتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان نے 30 ارب ڈالر کا غیرملکی قرضہ واپس کیا۔ موجودہ حکومت کے مطابق اسے اپنے پانچ سال کے دوران 37 ارب ڈالرز کے گلونی قرضے واپس کرنا ہونگے جبکہ سابقہ حکومت مسلم لیگ نون نے اپنے دور میں پانچ سال کے دوران تیس ارب ڈالر سے زائد قرضہ واپس کیا۔ ایوان بالا کو بتایا گیا کہ جنوری 2019 تک پاکستان کے غیرملکی قرضوں کا کل حجم 88 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد پاکستان نے مالی سال 2013 14 سے جنوری 2019 تک کل 33 ارب 50 کروڑ ڈالر کارکردہ واپس کیا ہے واپس کئے گئے قرضے میں 7 ارب 30 کروڑ ڈالرز کا سود بھی شامل ہے۔


پی ٹی آئی کے وزیر مملکت برائے خزانہ حماد اظہر نے سینیٹ میں بیان دیا ہے کہ رواں سال حکومت کو ریکارڈ 9 ارب 20 کروڑ ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے پاکستان نے اگلے پانچ سال میں سینتیس ارب ڈالرز کا قرضہ واپس کرنا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما ؤں نے مختلف ٹی وی ٹاک شوز میں اس صورتحال اور پی ٹی آئی کی جانب سے نواز حکومت کے قرضے واپس کرنے کے اعتراف کو اجاگر کرنا شروع کردیا ہے اور اسے نون لیگ کی بڑی سیاسی کامیابی قرار دیا جارہا ہے جس کی معاشی ٹیم نے پاکستان کا تیس ارب ڈالر سے زائد کا قرضہ واپس کر کے دکھایا اور اس کا کریڈٹ اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور مسلم لیگ نون کی پوری معاشی ٹیم کو جاتا ہے جس پر پی ٹی آئی پانچ سال تک مسلسل تنقید کرتی رہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں