وزراء کی ٹیم تیل کے ذخائر کا جائزہ لینے کے لیے سمندر کے اندر پہنچ گئی

پوری قوم وزیراعظم عمران خان کے اس سمندر سے تیل نکلنے کے بیان کے بعد اس خوشخبری کو سننے کے لیے بے قرار ہے انتظار کیا جا رہا ہے کہ کب کس وقت پاکستان کے حکومت سرکاری طور پر یہ خوشخبری سناتی ہے پاکستان کے بحری امور کے وزیر علی حیدر زیدی نے وزیرپٹرولیم اسد عمر کو ساتھ لے کر سمندر میں تیل کے ذخائر کا جائزہ لینے کے لئے ہیلی کاپٹر میں سفر کیا ہے علی حیدر زیدی کے مطابق تیل کا ذخیرہ کراچی کے ساحل سے 230 کلومیٹر سمندر کے اندر ہے علی زیدی نے اپنے ہمراہ عمر ایوب خان اور ندیم بابر کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا ہے۔
علی حیدر نے جب اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر لگائیں تو پاکستان کے ماہر خارجہ امور ظفر ہلالی نے تبصرہ کیا کہ کیا یہ وہی مشہور تیل کا چشمہ ہے جس کو مسلسل کھودا جارہا ہے اور کچھ نہیں نکل رہا اگر ایسا ہے تو کیوں جا رہے ہیں یا اس بار کوئی اچھی خبر ہے؟



علی زیدی کی تصویر شیئر کئے جانے کے بعد مختلف مباحثے شروع ہوگئے ہیں اور ایک نے لکھا ہے کہ سرکار اس تیل نکالنے پر پیسہ مت خرچ کریں  عوام کا تیل نکل رہا ہے مہنگائی سے اسی کو کام میں لائیں۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ انہیں پاکستان میں تیل اور گیس کے تمام ذخائر کے بارے میں کافی معلومات ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان کو زیادہ معلومات نہیں ہے وہ جو سنتے ہیں آکر بول دیتے ہیں ۔سمندر سے تیل نکالنے کے لئے ایک نہیں چار کنووٗں پر کام ہورہا ہے ایک کنواں پانچ ہزار میٹر کی گہرائی تک بتایا جارہا ہے یہ بھی اپنی نوعیت کا نیا ریکارڈ ہوگا کیونکہ دنیا میں اب تک جہاں بھی تیل نکلا ہے وہاں تین ہزار میٹر کی گہرائی پر تیل نکل آیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں