کسی بھی قوم کی تعلیم و تربیت اور ملکی معیشت کے لیے کھیل ایک نہایت اھم کردار ادا کرتے ھیں

تحریر ۔۔۔۔۔شہزاد بھٹہ


———————

کھیل سے نوجوانوں میں تنظیم ڈسپلن برداشت ھار جیت کا جذبہ اور محبت پیدا ھوتی ھے ایک وقت تھا جب پاکستان مختلف کھیلوں کے میدانوں میں چھایا ھوا تھا سکولز کالجز میں باقاعدگی سے کھیل ھوتے اور ان کے مقابلے جات ھوتے جن میں سکولز اور کالجز بڑے جوش و خروش سے حصے لیتے ۔ تقربیا ھر شہر میں مختلف سکولز کے درمیان کاٹنے دار مقابلے ھوتے جیسے انڈیا اور پاکستان کے مقابلے ھوتے ھیں ۔


تمام سکولز میں شام کے اوقات میں تمام طلبہ کا کھیل کے میدان میں انا لازم تھا جس کی وجہ سے انہی سکولز کالجز سے قومی ٹیموں کے لیے کھلاڑی پیدا ھوتے رھے 
سکولز کالجز کے سپٹورس ٹیچرز مختلف گروانڈز کے چکر لگاتے اور وھاں سے لڑکے تلاش کرتے اور ان کو اپنے اپنے اداروں میں لانے کے لیے سرتوڑ کوشش کرتے ایک مقابلے کی فضا تھی جس سے ملک کے لیے بہترین کھلاڑی دستیاب رہتے ۔کھیلوں کے میدان بھی پُر رہتے


۔مگر پھر کھیلوں کو کسی کی نظر لگ گئی ۔سکولز کالجز سے کھیل مکمل طور ختم ھوگئے ان کے میدان ویران اور طلبہ کو ایک سازش کے تحت کھیل کود سے دور کر دیا گیا ۔سرکاری سکولز و کالجز کے اندر کھیلوں کی سرگرمیاں ھی ختم ھوگئیں دہشت گردی کو بنیاد بنا کر انتظامیہ کے طلبہ کو کمروں میں بند کر دیا اور ھر قسم کی صحت مندانہ سرگرمیاں شجر ممنوع قرار دے دی گئیں اور طلبہ کو برائلر مرغی بنا دیا گیا حتی کہ سکولز کالجز میں صبح کی اسمبلی اور پی ٹی تک ختم کر دی گئی
ایک اور ظلم یہ ھوا کہ تعلیم نجی شعبہ کے پاس چلی گئی ایک ایک کنال کے گھروں میں سکولز کھل گئے جہاں کھیل کود کے لیے جگہ ھی میسر نہیں اور قوم کو صرف تعلیم کے چکر میں ڈال دیا کہ صرف 90+ نمبر حاصل کرنا ھے اور تربیت والا صفحہ ھی ختم کر دیا .


میدانوں کی سرگرمیاں ختم ھونے سے نوجوان نسل موبائیل و دیگر غیر اخلاقی اور غیر صحت مندانہ سرگرمیوں میں مشغول ھوگئے تربیت اخلاقیات نظم وضبط ڈسلپن ختم ھو گئی اس کے ساتھ ساتھ مقابلے کی فضا بھی ختم ھوگئی ۔ ساری قوم صرف سیاست کے کھیل میں مصروف ھوگئی کمروں میں گھس کر سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور اسمان سے تارے توڑ لانے کے چکر میں اخلاقیات کے میدان میں  کہاں سے کہاں پہنچ گئی
دنیا بھر میں کھیل ایک صنعت کی حیثت اختیار کر چکے ھیں ملک کھیلوں کے ذریعے لاکھوں کروڑوں کما رھے ھیں سارا سارا سال مختلف گمیز جاری رہتے ھیں اور کھلاڑی بطور پروفیشنل ان میں حصہ لیتے ھیں کروڑوں کماتے ھیں جب کہ وطن عزیز میں کھلاڑی صرف شوقیہ کھیلتے ھیں جس سے وہ مالی مشکلات  کا شکار رہتے ھیں
دنیا بھر میں کھیلوں کی تنظیمں اپنے اپنے کام کرتی ھیں جبکہ پاکستان میں دیگر شعبہ جات کی طرح کھیلوں کی تنظیمں صرف سیاست سیاست کھیلتی ھیں کوئی فیڈریشن / ایسوسی ایشن / تنظیم اپنا کام نہیں کرتی سال میں ایک دو بار مقابلے کروا لیے اور اے سی والے کمروں میں بیٹھ کر گپ شپ کرکے وقت پورا کرتی ھیں ۔
تقربیا ھر شہر میں کھیلوں کے میدان اور اسیٹڈیم  موجود تو ھیں مگر ان میں سرگرمیاں نہ ھونے کے برابر ۔۔۔۔بہانہ دہشت گردی اور اب کرورنا
یہاں سوال پیدا ھوتا ھے کہ دیگر مختلف ممالک میں دہشت گردی نہیں ھورھی تو کیا وھاں کھیلوں و دیگر صحت مندانہ سرگرمیاں بند ھیں جواب * نہیں* حتی کہ کرورنا کی موجودہ خطرناک وبا میں بھی دنیا بھر میں کھیلوں کے مقابلے جاری ھیں


۔مسلہ صرف یہ ھے کہ پاکستان میں کوئی بھی بندہ اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کرنا چاھتا اور اپنے فرائض سے بھاگتا ھے ۔ بات صرف اتنی سے ھے کہ اپ نے ایک منظم قوم بننا ھے تو سکولز کالجز میں کھیلوں اور دیگر صحت مندانہ سرگرمیاں شروع کریں ۔میدان اباد کریں ۔۔مختلف شہروں کی ٹیمیں تشکیل دیں اور ان کے درمیان باقاعدہ مقابلے کروائیں۔تقربیا ھر چھوٹے بڑے شہر میں  اسیٹڈیم تو موجود ھیں مگر سرگرمیاں کوئی نہیں۔۔تھوڑی سی کوشش سے  ان کھیلوں کے میدانوں کو بااسانی اباد کریں۔۔۔
۔۔جہاں تک بات  ھے پیسہ اور وسائل کی تو جناب یہ جو ملٹی نیشنل کمپنیاں اربوں روپے کما کر باھر لے جارھی ھیں ان سے sponsorship لی جائے اس کے علاوہ تقربیا ھر شہر میں مالدار کروڑ پیتی موجود ھیں ان کو مختلف کھیلوں کی ٹیم دیں اور وہ اپنے اپنے کلب بنائیں میچز کرائیں پیسہ لگائیں اور پیسہ کمائیں ۔اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں ھے صرف پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو اس کام پر لگا دیں محمکہ سپٹورس موجود اور ان کے افسران ھر شہر بھی موجود مگر کارکردگی صفر۔۔۔وجہ وھی ھے  کہ ھم ٹھہرے سرکاری ملازمین اور ھم  نے  مفت میں تنخوائیں لینی ھیں اور بس۔۔۔


 کھیلوں کے میدان اباد کرنے کے لیے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ھے صرف انتظامیہ  ھر ہفتہ اتوار کے دن ھر اسیٹڈیم میں لازم مختلف گیمز کے میچز منعقد کروائے ۔
کراچی لاھور ملتان راولپنڈی جیسے شہر میں ھاکی کرکٹ اور فٹ بال اتھلیٹس کے انڑنیشنل معیار کے اسیٹڈیم موجود مگر کوئی میچز  منعقد نہیں ھو رھے۔۔۔
لگتا ھے کہ ھمارے محکمے تفریح و کھیل کود کے سخت خلاف ھیں اسی لیے تو سوائے گپ شپ اور مفت میں تنخوائیں لینے کے کوئی کام نہیں
ایک اور بات   بچوں خصوصا بچیوں کو سلیف ڈیفنس  کے لیے لازمی مارشل ارٹس تربیت دی جائے تاکہ وہ دہشت گرد عناصر سے اپنا دفاع خود کر سکیں جیسا کہ امریکہ چین چاپان کوریا و دیگر ممالک میں ھر سکولز کالجز میں تیکووانڈو ۔جوڈو وغیرہ کی تربیت لازمی ھے جس سے بچوں خصوصا بچیوں میں  ڈسپلن ۔خود اعتمادی اور اپنی مدد اپ کرنے کا جذبہ پیدا ھوتا ھے ۔۔۔
مگر ھم نے اپنے بچوں کو کمزور بزدل اور برائیلر بنا دیا ھے اگر ھم نے دہشت گردوں ۔ سماج دشمن عناصر اور بیرونی دشمنوں کے ساتھ ساتھ کرورنا جیسی وباوں کا مقابلہ کرنا ھے تو ھمیں اپنے نوجوانوں کو فزیکل اور ذہنی طور پر  تربیت دینی ھو گئی اور اس کے ساتھ ساتھ اجڑے میدانوں کو اباد کرنا ھوگا ۔۔
۔پاکستان پوری دنیا کو فٹ بال فراھم کرتا ھے مگر فٹ بال کھیلنے والی اقوام  میں اس کا دور دور تک نام نہیں
لہذا ضروری ھے کہ پاکستان میں فٹ بال کو فروغ دیا جائے ۔۔۔سستی ترین کھیل فٹ بال کو نوجوانوں کے لیے لازم قرار دیا جائے ھر سکول لالج میں شام کے اوقات میں طلبہ کے سپٹورس خاص طور پر فٹ بال ھاکی اتھلیٹس لازمی قرار دیا جائے تاکہ ایک صحت مند ۔ڈسپلن اور تربیت یافتہ نوجوان نسل تیار ھوسکے
۔ایک کپتان وزیر اعظم کے دور میں تو کھیلوں کو فروغ ملنا چاھیے ۔کیونکہ ھمارے میدان خالی اور ہسپتال بھرے پڑے ھیں کھیل اور تفریحی سہولیات نہ ھونے سے نوجوان غیر اخلاقی ، غیر صحت مند سرگرمیوں  اور منشیات کے شکار ھوتی جارھی ھے
اس کا واحد حل یہ ھے کہ کھیلوں کے میدان پھر سے اباد کئے جائیں اس کے لیے کسی عالمی بنک یا ائی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت بھی نہیں ھے صرف ان لوگوں کو ترغیب دینے کی ضرورت ھے جو اس ملک سے کروڑوں اربوں کما رھے ھیں ۔۔بڑے بڑے ھاوسنگ پراجیکٹس ۔شاپنگ مال ۔پلازے بنانے والوں کو بتانا پڑے گا کہ جناب اپنا سرمایا مختلف گمیز کو فروغ دینے میں بھی لگائیں کیونکہ کھیل بھی ایک صنعت کا درجہ رکھتی ھے ۔۔۔ اپ ان کھیلوں کے سیڈیمز اور مقابلے کروا کر بھی اربوں کما سکتے ھیں اور اس سے کھلاڑیوں اور عوام کو بھی سستی تفریح کے ساتھ ساتھ ان کی مالی حالت بھی بہتر ھو سکتی ھے اور ملکی معیشت بھی بہتر ھو گئی
مگر بات ھے ذرا سا سوچنے کی ۔۔۔پاکستان سے پیار کریں ۔۔۔۔