115

علی ظفر پر میشا شفیع کے الزامات پر مبنی کیس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

عوام انتظار کر رہے ہیں کہ گلوکاری میں نام کمانے والے دو مشہور پاکستانی گلوکاروں کے درمیان لڑا جانے والا اہم ترین مقدمہ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ۔گلوکار علی ظفر پر پاکستان ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ صبا حمید کی صاحبزادی میراشفیق عرف میشا شفیع جو خود بھی اپنے گانوں کی وجہ سے بے پناہ شہرت حاصل کر چکی ہیں انہوں نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگا رکھا ہے علی ظفر اس الزام کو نہ صرف مسترد کرتے رہے ہیں بلکہ انہوں نے جھوٹا الزام عائد کرنے پر میشا شفیع کو عدالتی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
دونوں گلوکار ماضی میں ایک ساتھ کام کرتے رہے ہیں اور میشا شفیع کا کہنا ہے کہ اکٹھے کام کرنے کے دوران متعدد مرتبہ علی ظفر نے جنسی طور پر ہراساں کیا۔

معاملہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں زیرسماعت آیا ۔سپریم کورٹ نے علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف مبینہ جھوٹا الزام آیت کرنے کی بنا پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور کی عدالت میں دائر کیے گئے سو ملین روپے کے ہتک عزت کے دعوے کو تین مہینے کے اندر ہٹانے کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف میشا شفیع کی اپیل کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔


سپریم کورٹ میں جناب جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جناب جسٹس اعجاز الحسن اور جناب جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل تین رکنی بینچ کے سامنے معاملہ زیر سماعت آیا تو وکیل حارث عظمت نے موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ میں علی ظفر کے مجموعی طور پر 24 گواہ ہیں وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ نو گواہوں کے اکٹھے بیانات قلمبند کرنے اور اسی موقع پر ھی جر ح کرنے کی اجازت دی جائے۔اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ کسی فریق کے وکیل کی خواہش کے مطابق گواہوں کے بیان نہیں لیے جاسکتے آپ کس قانون کے تحت ٹرائل کورٹ میں تمام گواہوں کے بیانات ایک ساتھ قلم بند کرنا اور ان پر اسی وقت جرح کرنا چاہتے ہیں قانون میں ایسی مجاہد نہیں گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے سے متعلق ٹرائل کورٹ نے ہی طے کرنا ہے۔
میشہ کے وکیل نے چند ہزار تین مثالیں پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ ہونے کے کی عدالتی فیصلے موجود ہیں جس پر فاضل جج جسٹس اعجاز حسن نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی فیصلے کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہوتے عدالت کا فیصلہ اولاد بھی ہوسکتا ہے تاہم عدالت کا وقت ختم ہوجانے کی بناء پر کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔


یاد رہے کہ میشا شفیع نے اپنے ایل 2018 میں سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام کے ذریعے گلوکار اور اداکار علی ظفر پر انہیں ماضی میں متعدد بار جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا تب یہ معاملہ میڈیا میں کافی شہرت حاصل کر گیا تھا اور اس معاملے کو صوبائی محتسب برائے تحفظ ملازمت پیشہ خواتین تک بھیجا گیا تھا لیکن افضل محتصر نے قرار دیا تھا کہ میشا شفیع علی ظفر کی ماتحت نہیں تھی اس لئے معاملہ ان کے دائرہ کار سے باہر ہے نشا نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کا تھارٹی گورنر پنجاب کو اپیل بھیجیں جنہوں نے فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی اس کے بعد نشا نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی دوسری جانب علی ظفر نے صوبائی محتسب اور گورنر کا فیصلہ اپنے حق میں آنے کے فیصلے کی بنیاد پر میشا شفیع کے خلاف ڈسٹرکٹ سیشن جج لاہور کی عدالت میں سو ملین روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کردیا تھا جس میں میشا شفیع کے وکیل نے علی ظفر کے نو گواہوں کے بیانات ایک ہی سماعت میں قلم بند کرنے اور جرعہ کرنے کی سزا کی تھی جو خارج ہوجانے پر اس کے خلاف کافی دائر کی گئی تو لاہورہائیکورٹ نے عدالت کو معمول کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے کیس کو تین مہینے کے اندر اندر نے ملانے کا حکم جاری کیا تھا لاہور ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف میشا شفیع نے سپریم کورٹ میں اپنی زائر کی یاد رہے کہ میشا شفیع نے بھی علی ظفر کو مبینہ حفاظت میں معافی مانگنے اور دو ارب روپے ہرجانہ ادا کرنے کا ایک نوٹس بھجوا رکھا ہے۔


پاکستان کے دونوں مشہور گلوکاروں کے درمیان جاری اس عدالتی اور قانونی جنگ کی وجہ سے پاکستان کی فنکار اور گلوکار بھی دو گروپوں میں تقسیم ہوچکے ہیں بلکہ ایک تیسرا گروپ بھی بن چکا ہے فنکاروں کی تقسیم شدہ گروپ اپنے اپنی چوائس کے مطابق علی ظفر اور میشا شفیع کی حمایت کا اعلان کرتے آئے ہیں جبکہ ایک گروپ کو غیرجانبدار فنکاروں اور گلوکاروں پر مشتمل پر مشتمل ہے جو خود کو اس معاملے سے الگ تھلگ رکھے ہوئے ہیں ۔اس کیس اور الزامات اور جوابی الزامات کی وجہ سے پاکستان کی شوبز انڈسٹری میں کافی کشیدہ صورتحال پائی جاتی ہے اور متعدد پروجیکٹس ڈسٹرب ہو چکے ہیں اس مقدمے کی وجہ سے گلوکاروں فنکاروں کے ساتھ ساتھ 24 میں کام کرنے والے لوگوں بالخصوص خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے لئے بھی مشکلات پیدا ہوئیں ہیں اور لڑکیوں کو مختلف شوز اور پروجیکٹ کے لیے گھریلو اجازت کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں