صحافی بھی قبضہ گروپ میں شامل … قانون کے مطابق کارروائی ضروری قرار

پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا کی مقبولیت کے بعد پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں صحافیوں کی ہونے والی یلغار میں ایسے لوگ بھی شامل ہوگئے ہیں جن کا صحافت سے تعلق کم اور صحافت کو اپنے دیگر مقاصد اورعزائم کے لیے استعمال کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح معاشرے کے دیگر شعبوں کی طرح صحافت میں بھی کالی بھیڑیں گھس آئی ہیں جن کی وجہ سے پیشہ ور صحافیوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔متعدد مرتبہ ملک بھر کی صحافتی تنظیموں پر یہ دباؤ آیا ہے کہ وہ چھٹی کریں اور اپنی صفوں سے ان کالی بھیڑوں کو نکال باہر کریں اس حوالے سے کچھ ایکشن ہوئے کچھ لوگوں کو نکالا گیا لیکن اس کے باوجود شکایات اپنی جگہ موجود ہیں صحافیوں میں سرکاری ملازم بھی شامل ہیں اور قبضہ گروپ سمیت مختلف جرائم میں ملوث رہنے والے لوگ یا سہولت کار بھی شامل ہوچکے ہیں ۔ایسی کالی بھیڑوں کی وجہ سے پیشہ ور صحافیوں کو بھی معاشرے میں اب شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور صحافیوں کو اپنے پیشہ ور فرائض کی ادائیگی میں ماضی کی نسبت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔
مختلف جرائم جن میں دہشت گردی کے لیے سہولت کاری کے الزامات بھی شامل ہیں بعض صحافیوں پر لگ چکے ہیں اور کچھ کے خلاف پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مقدمات بھی تیار کیے ہیں ۔کچھ صحافیوں کو غیر اعلانیہ طور پر حراست میں لے کر تفتیش سے گزارا جا چکا ہے اور کچھ کو باقاعدہ گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات سامنے لائے گئے ہیں کچھ ایسے صحافی بھی ہیں جن کو جھوٹے الزامات اور مقدمات میں فضائی آگیا اور انہیں عدالت سے ضمانت پر رہا کرانا پڑا ۔صحافیوں پر تشدد اور صحافیوں کے خلاف جان لیوا حملے بھی ہو چکے ہیں اور پاکستان میں صحافت مشکلات کا شکار ہے صحافیوں پر کئی قسم کے دباؤ ہیں اور مختلف قسم کے مسائل ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں انتظامیہ نے سرکاری رہائش گاہوں میں طویل عرصے سے رہائش پذیر صحافیوں کو بے دخل کردیا ہے وہاں مزاحمت کرنے والے ایک رپورٹر کو تھانے میں بند بھی کیا گیا۔
اسلام آباد کے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر فیصل نے پولیس کی نفری کےساتھ فیڈرل آج میں برسوں سے رہائش پذیر رپورٹرز صدیق انظر شاہد میتلا اور دیگر کے کمرے خالی کرائے اس موقع پر پریس کرکٹ کے کرتا دھرتا صحافی اور یونین سے وابستہ بعض صحافی لیڈر موقع پر پہنچے اور احتجاج بھی کیا گیا وہ صحافیوں نے احتجاج کے دوران اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس اہلکاروں سے الجھنے کی کوشش کی جس پر دھکم پیل ہوئی حکام سے الجھنے اور کار سرکار میں مداخلت کے الزام میں بولنے اس سے وابستہ رپورٹر شاہد میتلا کو پولیس نے حراست میں لے کر تھانہ سیکرٹریٹ میں منتقل کیا بعد ازاں پولیس حکام کے کہنے پر رہائی عمل میں آئی اسلام آباد پریس کلب کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں صحافیوں کی سرکاری رہائش گاہوں سے بے دخلی کی مذمت کی گئی ہے اور وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ کی پریس کلب میں داخلے پر پابندی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سرکاری رہائش گاہوں کا کرایہ صحافیوں سے آٹھ ہزار روپے وصول کیا جاتا تھا اور ان میں سے اکثر دس برس سے زائد عرصے سے یہاں مقیم تھے یہ رہائش گاہیں بنیادی طور پر ارکان قومی اسمبلی کے لئے بنائی گئی تھی جو بعد ازاں سرکاری افسران کے استعمال میں ہیں ان رہائش گاہوں پر قابض زیادہ تر رپورٹرز کے وزارت ہاؤسنگ میچ تعلقات رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ طویل عرصہ رہائش پذیر ہے۔
کراچی میں مشہور صحافی مشتاق سرکی کی پولیس افسران سے لڑائی اور پھر گرفتاری اور ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات کا کافی چرچا رہا پی ایف یو جے کے صدر جی ایم جمالی سمیت صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے مشتاق سرکی کی حمایت کی اور ان کے خلاف بنائے جانے والے مقدمات کو انتظامی کارروائی سے تعبیر کرتے ہوئے اس معاملے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی بنیاد پر حتمی نتیجے تک پہنچنے پر زور دیا گیا مشتاق سرکی ایک زمانے میں جن سینئر پولیس افسران کے بہت قریب تھے اور گاڑی گہری دوستی تھی ایک ساتھ دعوتوں اور پارٹیوں میں شرکت کرتے تھے ان پولیس افسران کے ساتھ ہیں ان کے جھگڑے اور تنازع کے بعد مقدمات اور الزامات بڑھتے چلے گئے انہوں نے پولیس افسران پر سنگین الزامات عائد کیے ان کی ویڈیوز نے شہرت حاصل کی اور اس کے بعد ان کے خلاف مقدمات قائم ہوئے اور گرفتاری عمل میں آئی یہ معاملہ ابھی تک حل طلب ہے۔
اس سے پہلے کراچی کے صحافی نصراللہ چوہدری کا معاملہ بھی کافی پیچیدہ صورتحال اختیار کر گیا تھا ان کی رہائی بھی مشکل سے عمل میں آئی پریس کلب اور صحافتی تنظیموں کو ان کے لیے زبردست احتجاج کرنا پڑا تھا جس کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی ۔
اس کے بعد کراچی کے ایک اور رپورٹر مطلوب حسین موسوی اور کچھ کیمرہ مینوں کے ساتھ بھی ایسے ہی معاملات سامنے آچکے ہیں۔
پاکستان بھر میں ایک طرف پیشہ ور صحافیوں کو مختلف جھوٹے الزامات دھمکیوں اور حملوں کا سامنا ہے دوسری طرف صحافت میں کچھ ایسے عناصر بھی شامل ہو چکے ہیں جو صحافت کی آڑ میں کسی اور مخصوص ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں پریس کلبوں اور صحافتی تنظیموں کے لئے ایسے عناصر کی چھانٹی اور تفریق کرنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے لیکن یہ کام کسی کو کبھی تو کرنا ہوگا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں