نو سالہ معصوم گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کیس

نو سالہ معصوم گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کرنے کے کیس میں معطل جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ملزمہ ماہین ظفر کی تین تین سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
سپریم کورٹ کے جناب جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ملزمان کی اپیلوں کی سماعت کی ۔
یاد رہے کہ گھریلو ملازمہ 9سالہ طیبہ کا معاملہ دسمبر 2016 میں اچانک سامنے آیا تھا جب اس کے پڑوسیوں نے اسے تشدد زدہ حالت میں پایا اور اس معاملے کو سوشل میڈیا پر شہرت ملی اور انصاف کا تقاضہ کیا گیا یہ معاملہ عدالت تک پہنچایا اور  اس کی اہلیہ کو ایک ایک سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں گئی اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے مقدمے میں شاید کا جائزہ لینے کے بعد ملزمان کی سزا ختم کرنے کی بجائے سزا بڑھا دی اور معطل جج اور اس کی اہلیہ کو تین تین سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ معصوم طیبہ کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ میں آئیں جہاں ان کی سماعت ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے ۔


ایک سماعت کے موقع پر ملزمہ ماہین ظفر کے وکیل راجہ محمد فاروق نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی موکلہ کئی ماہ سے جیل میں بند ہے جبکہ ملزم راجہ خرم علی 11جون سے جیل میں قید ہیں وکیل نے موقف اختیار کیا کہ طیبہ کے جسم پر آنے والے زخم حادثاتی تھے وہ بچی ماچس کی تیلیوں سے خود ہی جلی تھی ۔جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اسے تو پولیس اسپتال لے کر گئی تھی اگر گھر میں کوئی جل جائے تو کیا پولیس کے آنے کا انتظار کیا جاتا ہے یا اسے اسپتال پہنچایا جاتا ہے جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ گھر والے پہلے اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تھے بعد میں پولیس اسے اسپتال لے کر گئی عدالت نے پوچھا اس ڈاکٹر کا نام بتائیں اس کا تو ریکارڈ پر کہیں کوئی ذکر ہی نہیں عدالت نے پوچھا یہ کیا طیبہ کے جسم پر 22 زخم حادثاتی تھے؟انہوں نے کہا کہ غریب لوگوں پر دباؤ بھی ڈالا جاسکتا ہے اور پیسے بھی دیئے جاسکتے ہیں زخم حادثاتی تھا یا ارادی میڈیکل رپورٹ سے ثابت نہیں ہوتا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں