عید تو ایم ڈی اور صاحب لوگوں کی ہوتی ہے ہم ڈیلی ویجرز کو تو عید کے روز بھی کام کرنا پڑتا ہے

خواب دیکھنے پرتو کوئی پابندی نہیں ہے پٹرول پمپ پر کام کرنے والا فرید بھی بڑے بڑے خواب دیکھتا ہے کہ اس کے پٹرول پمپ پر جو بڑی بڑی گاڑیاں آکر رکتی ہیں وہ بھی ایک دن ویسے ہی چمکتی دمکتی نئے ماڈل کی مہنگی گاڑیاں خریدے گا اور چلائے گا اس کا ڈرائیور ۔۔۔۔جسے وہ صرف ایک اشارہ کرے گا اور وہ اس کا ہر حکم بجا لائے گا ۔

لیکن غریب فرید کے پاس نہ تعلیم ہے نہ پیسہ ۔پھر وہ جو خواب بن رہا ہے ان کی تعبیر کیسے پائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو اسے پتہ نہیں لیکن ۔۔۔۔اس کا دل کہتا ہے کہ ایک دن اس کے بھی دن پھریں گے اس پر بھی قدرت مہربان ہو گی ۔وہ بھی نوٹوں میں کھیلے گا ۔۔۔۔۔۔اللہ خیر کرے ۔۔۔۔اس کے ارادے اسے کسی غلط راستے پر نہ لے جائیں ۔۔۔۔اس کے ساتھ کام کرنے والے اسے سمجھاتے ہیں زندگی میں راتوں رات دولت نہیں ملتی بہت محنت کرنی پڑتی ہے اپنے اندر قابلیت پیدا کرنی پڑتی ہے اور ایک ایک کرکے ترقی کے زینے طے کرنے پڑتے ہیں ۔اس کے ساتھ کام کرنے والا شہزاد کہہ رہا تھا دیکھو فرید ۔۔۔۔۔عید تو ایم ڈی اور صاحب لوگوں کی ہوتی ہے ہم ڈیلی ویجرز کو تو عید والے دن بھی کام پر آنا پڑتا ہے نہیں آئیں گے تو ہمارا گزارا مشکل ہو جائے گا تم بھی یہ بات مان لو اور عید والے دن ڈیوٹی پر آ جانا ۔۔۔لیکن فرید عید والے دن ڈیوٹی کرنے کے حق میں نہیں ہے اس کا ماننا ہے کہ سارا سال ہم ڈیوٹی کرتے ہیں کم ازکم عید والے دن تو ہمیں نئے کپڑے پہن کر اپنی مرضی کے مطابق وقت گزارنے کا موقع ملنا چاہیے اپنے من پسند کھانے کھانے چاہیے اور اپنے رشتے داروں دوستوں سے ملنا چاہیے خوب گپ شپ کرنی چاہیے عید والے دن کام کا بوجھ ذہن پر نہیں ہونا چاہیے اگر عید والے دن بھی یونیفارم پہن کر ڈیوٹی پر آنا ہے تو کیا فائدہ ؟


شہزاد اسے سمجھا رہا تھا کہ تم ایسا کرنے والے واحد انسان نہیں ہو۔ہمارے جیسے بے شمار لوگ پورے ملک میں ایسا کرتے ہیں اور عید تو عید کی نماز پڑھنے کے بعد گلے ملنے سے ہوجاتی ہے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پاکستان سے باہر متعدد ملکوں میں ایسے پاکستانی پٹرول پمپ کام کرتے ہیں جنہیں عید والے دن بھی کام پر آنا پڑتا ہے چھٹی نہیں ہوتی بلکہ وہاں تو ڈبل شفٹ میں بھی لوگ کام کرتے ہیں ہاں یہ بات الگ ہے کہ وہاں معاوضہ زیادہ ملتا اور فوری ملتا ہے اس لیے زیادہ معاوضہ اور جلد معاوضہ ملنے کی خوشی اور لگن میں لوگ زیادہ دیر کام کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں چھٹی نہیں کرتے اور عید والے دن بھی کام پر آ جاتے ہیں ویسے بھی وہاں پر زیادہ تر لوگ بغیر فیملی کے رہ رہے ہوتے ہیں اور ان کی اکثریت تو بیرون ملک جاتی ہیں اس کام کے لئے ہے کہ وہاں جاکر زیادہ دیر کام کریں اور زیادہ سے زیادہ نوٹ کمائیں اپنے اور اپنے گھر والوں کے مالی حالات بہتر بنائیں اپنے گھر والوں کے معاشی مسائل حل کریں اپنے خاندان کے قرضے اتاریں۔ اپنے والدین کا علاج کریں ۔اپنے رشتہ داروں کہ کام آئے ۔اپنے کچے گھر کو پکے مکان بلکہ بنگلے یا کوٹھی کی شکل دے سکیں بہن بھائیوں کی دھوم دھام سے شادیاں کر سکیں اور اپنا گھر بسا سکیں۔
شہزادے سمجھا رہا تھا کہ فرید تم بھی محنت کرو عید والے دن ڈیوٹی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے تم جتنا زیادہ کام کرو گے اتنا زیادہ پیسہ کماؤ گے ویسے بھی کرونا اور لاک ڈاؤن کا سیزن ہے گھر بیٹھ کر بھی کیا کرو گے کہ آ جا نہیں سکتے تمام تفریحی مقامات بھی بند کر دیے گئے ہیں پٹرول پمپ پر بھی بہت کم گاڑیاں آرہی ہے شکر کرو کہ کام ملا ہوا ہے اور دعا کرو کہ کام لگا رہے ورنہ جو حالات نظر آرہے ہیں کسی وقت بھی کام سے چھٹی ہو سکتی ہے کیونکہ مینیجر اور سیٹھ کا موڈ اچھا نہیں ہے انہیں اپنی آمدنی اور انکم میں کمی نظر آرہی ہے ان کا کہنا ہے کہ خرچے پورے نہیں ہو رہے وہ اسٹاف میں کمی لانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں کیونکہ سیل کم ہو گئی ہے ۔

یہ صورتحال صرف فرید اور شہزاد کو درپیش نہیں ہے بلکہ پاکستان بھر کے پیٹرول پمپوں پر کام کرنے والے لاتعداد غریب ڈیلی ویجرز کے ایسے ہی حالات ہیں ملک میں بے روزگاری اور غربت بڑھ رہی ہے روزگار کے نئے مواقع محدود بلکہ کم ہیں کرونا کی وبا نے صورتحال کو مزید پیچیدہ اور مشکل بنا دیا ہے بڑے بڑے ادارے اور کمپنیاں مشکل صورتحال سے دوچار ہیں اور مالی مسائل کا سامنا ہے جب بڑے بڑے سیٹھ اور مالکان پریشان ہیں تو بیچارے پٹرول پمپ پر کام کرنے والے ڈیلی ویجرز کہاں جائیں ۔ان کی مدد کون کرسکتا ہے پرائیویٹ کمپنیاں تو جتنا کام اتنا معاوضہ ۔یہ اصول پر چلتی ہیں سرکاری اداروں میں نوکریاں کرنے والے اس لحاظ سے اگر سکون میں ہوتے ہیں کہ انہیں پکی نوکری سے نکالا نہیں جا سکتا اور مہینے کے بعد تنخواہ اور مراعات ضرور ملتی ہیں ۔
پاکستان اسٹیٹ آئل بھی ایک زبردست تنخواہ اور مراعات دینے والا ادارہ ہے اس کے مینجنگ ڈائریکٹر سے لے کر اس کے ڈائریکٹرز اور جنرل منیجر اور مینیجرز کتنی معقول تنخواہ اور مراعات حاصل کرتے ہیں کہ انہیں براہ راست مہنگائی سے بہت زیادہ فکر لاحق نہیں ہوتی یقینی طور پر یہ نوکری آسانی سے نہیں ملتی اس کے لئے اپنی قابلیت ذہانت اور صلاحیت ثابت کرنی پڑتی ہے اور نوکری حاصل کرنے کے بعد اسے برقرار رکھنے کے لئے مسلسل محنت بھی کرنی پڑتی ہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سفارشی بنیادوں پر ہیں جنہیں طاقتور حلقوں اور شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے یا وہ کچھ لوگوں کے منظور نظر ہونے کی وجہ سے مزے کر رہے ہیں دیگر اداروں کی طرح پاکستان اسٹیٹ آئل میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں ایسے افسران اور ملازمین نظر آتے ہیں جن کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے پی ایس او میں کام کرنے والے لوگ ہیں ایسے لوگوں کی نشاندہی کر دیتے ہیں ان کا لائف اسٹائل خود بولتا ہے ضرورت پڑی تو ایک ایک نام لیکر تصویروں کے ساتھ ان کے چہرے آپ کے سامنے لائے جا سکتے ہیں لیکن ابھی عید کا موقع ہے اور کرونا کا مشکل وقت چل رہا ہے اس لیے کسی کو مزید پریشان کرنا مناسب نہیں ۔مقصد کسی کی دل آزاری نہیں ہے لیکن یہ سوچنا ہے کہ جو غریب ڈیلی ویجر سارا سال مشکل سے دو وقت کی روٹی کیلئے پیسے جوڑتا ہے اسے کرونا کے مشکل حالات میں عید کے موقع پر کیا ریلیف دیا جا سکتا ہے کیا کمپنی اپنے سی ایس آر فنڈ سے اپنی ہی کمپنی کے پٹرول پمپ ہے جڑے ہوئے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے غریب افراد کی کوئی مدد نہیں کر سکتی ۔۔۔ایم ڈی صاحب آپ اور دیگر با اختیار اور فیصلہ ساز شخصیات اس بارے میں غور ضرور کریں ۔۔۔۔آپ نے بھی ایسی خبریں پڑھی ہوں گی جس میں غربت سے تنگ آکر لوگ خودکشی کر رہے ہیں اور اپنے بچوں کو نہروں میں پھینک رہے ہیں یا زہر کھلا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اف حالات بہت مشکل ہیں ۔۔۔۔۔اللہ سب پر رحم کرے ۔
(جاری ہے )
————————-
Salik-Majeed
———————-
whatsapp……..92-300-9253034