اگلے سات سال میں 31 ارب ڈالر کا قرضہ پاکستان نے واپس کرنا ہے

پاکستان کی معاشی صورتحال پر عالمی مالیاتی ادارے گہری نظریں جمائے بیٹھے ہیں وزیراعظم عمران خان نے چند ہی دنوں میں اپنی پوری معاشی ٹیم کو تبدیل کر دیا ہے وزیرخزانہ گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر کی تبدیلی کے بعد نئے لوگوں کے ہاتھ میں فیصلے آگئے ہیں معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اگلے سات برس میں کم ازکم اکتیس ارب ڈالر کے قرضے اور سود واپس کرنا ہے 2019 جولائی سے لے کر 2026 جون تک پاکستان کو مختلف ملکوں کے 31 ارب ڈالر کا قرضہ بشمول پرانا سود ادا کرنا ہے اس میں آئی ایم ایف سے ہونے والے موجودہ معاہدے اور پرانے قرضوں کی رقم شامل نہیں ہے اگلے آٹھ برس میں حاصل کیاجانے والا برضا اور اسکا سودان 31 ارب ڈالر کے علاوہ ہوگا ۔
پاکستانی روپے میں پاکستان کا قرضہ 28 ٹریلین روپے ہے جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 74 فیصد بنتا ہے ۔
پاکستان نے اگلے سات برس میں 31 ارب ڈالر کے جو غیر ملکی قرضے واپس کرنے ہیں ان میں 25 ارب ساٹھ کروڑ ڈالر اصل رقم ہے اور پانچ ارب پچاس کروڑ ڈالر ان پر جمع ہونے والے سود ہے ۔
10 ارب ڈالر کے قریب عالمی مالیاتی اداروں کو قرض واپس کرنا ہے جس میں چار ارب 80 کروڑ ڈالر ورلڈ بینک اور چار ارب 50 کروڑ ڈالر ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا شامل ہے ۔
پاکستان نے پانچ ارب چار کروڑ روپے کے قرضوں کا زیادہ تر حصہ چین کو واپس کرنا ہے ۔
جبکہ پانچ ارب نوے کروڑ ڈالر کا قرضہ پیرس کلب کے ارکان کو اگلے آٹھ سالوں میں واپس کرنا ہے جاپان کو ڈھائی ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے فرانس کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں