مسٹر جناح ہم تاریخ پڑھا رہے ہیں اور آپ اسے بنا رہے ہیں ۔ قائد اعظم محمد علی جناح سے ابوبکر احمد حلیم کا تاریخی جملہ

ابوبکر احمد حلیم جنہیں ایک دنیا اے بی اے حلیم کے نام سے جانتی ہے پاکستان کا دنیا بھر میں نام روشن کرنے والے ایسے انسان تھے جی تاریخ میں ایک مسلمان پولٹیکل سائنس دان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے انہیں مختلف زبانوں پر عبور حاصل تھا ان کے بہترین علم کی وجہ سے انہیں چینی تاریخ پر چین کے عظیم لیڈر ماؤ کے سامنے تقریر کرنے کے لیے دعوت دی گئی ۔جبکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ ان کا ایک جملہ انتہائی شہرت حاصل کر گیا جب انہوں نے کہا تھا ۔
مسٹر جناح ہم تاریخ پڑھا رہے ہیں اور آپ اسے بنا رہے ہیں ۔
اٹھارہ سو ستانوے میں بہار میں پیدا ہونے والے ابوبکر احمد حلیم نے پٹنہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اس کے بعد مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ آکسفورڈ گئے اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے پولیٹکل سائنس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی انیس سو 21 میں انڈیا واپس آئے اس وقت تحریک آزادی اپنے زور و شور سے جاری تھی انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک تعلیمدان کے طور پر اپنا کیرئیر شروع کیا یہیں پر ان کی ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے ہوئی اور پھر وہ ان کے خیالات سے متاثر ہوکر ان کے ساتھ ہوئے ۔1923 میں انہیں علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبہ پولٹیکل سائنس اور تاریخ میں پروفیسر مقرر کیا گیا اس کے بعد وہ ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین بنے اور پھر 935 سے 1944 تک انہوں نے پرووائس چانسلر علی گڑھ یونیورسٹی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔انیس سو بیالیس میں انہیں انٹر یونیورسٹی بورڈ ہندوستان کا چیئرمین مقرر کیا گیا ۔انیس سو چوالیس میں انہوں نے باضابطہ طور پر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرکے تحریک پاکستان میں حصہ لیا انیس سو پینتالیس چھیالیس کے انتخابات میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر یوپی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔انیس سو پینتالیس میں آپکو یوپی مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا صدر منتخب کر لیا گیا ۔انیس سو چوالیس سے پینتالیس تک انہیں آل انڈیا مسلم لیگ پلاننگ کمیٹی کا سیکٹری بنایا گیا وہ مسلم لیگ ایجوکیشن کمیٹی کے سیکریٹری بنے قائداعظم نے انہیں انیس سو پینتالیس میں شملہ کانفرنس میں آ ینی ایڈوائزر بھی مقرر کیا ۔
قیام پاکستان کے بعد انہیں کراچی یونیورسٹی کا پہلا وائس چانسلر بننے کا اعزاز حاصل ہوا وہ تیس سال تک اس عہدے پر فرائض انجام دیتے رہے اس سے پہلے انیس سو سینتالیس میں انہیں یونیورسٹی آف سندھ کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا گیا 951 دونوں نے فرائض انجام دیے تھے انہوں نے زیادہ تر عرصہ کراچی یونیورسٹی میں پولٹیکل سائنس پڑھائی وہ بیس اپریل 1975 کو کراچی میں 79 سال کی عمر میں انتقال فرما گئے ۔ان کے انتقال کے بعد پاکستان پوسٹ نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر ایک یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا ہے ۔یہ ٹکٹ 20 اپریل 2003 کو ان کی یاد میں جاری کیا گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں