مسلم لیگی کارکنوں کی امیدوں کا مرکز … مریم نواز

سابق وزیراعظم نواز شریف کی دوبارہ جیل میں قید کے دوران اب مسلم لیگ نون کے کارکنوں کی توجہ اور امیدوں کا مرکز ان کی صاحبزادی مریم نواز بنتی جارہی ہیں اور شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز سیاسی جدوجہد میں مریم نواز سے پیچھے ہوتے جا رہے ہیں قیدوبند کی جو سختیاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے جھیلیں اور جس جارحانہ انداز سے انہوں نے سیاسی مخالفین اور دیگر قوتوں کا مقابلہ کیا اسی وجہ سے مسلم لیگی کارکنوں اور اس کے حامیوں میں نواز شریف کے بعد تیزی کے ساتھ جس شخصیت کا سیاسی قد اونچا ہوا ہے وہ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز ہیں ۔مریم نے سوشل میڈیا پر مسلم لیگ نون کو متحرک اور فعال رکھا ہوا ہے اور اپنے والد کا پیغام کارکنوں تک پہنچاتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی کارکردگی پر تنقید اور حکومت کی نااہلی کو عوام کے سامنے اجاگر کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں پی ٹی آئی کی حکومت ان سے حقیقت میں ہوس زدہ نظر آرہی ہے


جس کا عملی ثبوت الیکشن کمیشن میں ان کے خلاف لگائی گئی درخواست سے ملتا ہے پی ٹی آئی ہر قیمت پر مریم نواز کو سیاسی کیریئر آگے بڑھانے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے اس کی کوشش ہے کہ مریم نواز عملی سیاست میں نہ آسکیں ۔کسی بھی طرح مریم نواز کا راستہ روکا جائے ۔دوسری طرف مریم نواز نے صورتحال کو بھانپ لیا ہے اور انھوں نے اپنے والد کی منظوری سے حکومت کے خلاف محاذ گرم کر دیا ہے ۔مسلم لیگ میں پہلی مرتبہ مریم کو نائب صدر کا عہدہ دیا گیا ہے جو اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ان کے والد نواز شریف سیاسی مستقبل کے حوالے سے مریم نواز کا اہم کردار دیکھ رہے ہیں اور اسی کے لیے قربانی دے رہے ہیں ۔مریم نواز نے اپنے والد کو جیل چھوڑنے کے لیے آنے والے مسلم لیگ نون کے کارکنوں پر ہونے والے مقدمے کی بھی سخت مذمت کی ہے اور پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ جن کارکنوں پر مقدمہ بنایا گیا ہے ان کی بھرپور مدد کی جائے اور کارکنوں سے بھی کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کسی بھی مشکل صورتحال میں رابطہ کر سکتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں