بحریہ ٹاؤن کے قبضوں کے خلاف سندھ حکومت اور پولیس کا ٹوپی ڈرامہ۔۔۔۔

تحریر شاہد غزالی

تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق پولیس نے قبضہ کی کارروائيوں اور تشدد میں ملوث جن بحریہ کے گارڈز کے خلاف ایف آئی درج کی تھیں ان سب کو ضمانت پر رہا کردیا گیا اور انکے انچارج ریٹائرڈ کرنل کو گرفتار کرنے سے پہلے ہے ضمانت پر رہائی مل گئی ہے اس بات کا انکشاف ایک وائرل ہونے والی آڈیو میں کیا گیا جس میں بحریہ سیکورٹی کا ایک آفیسر سیکورٹی گارڈ کو ڈیوٹی پر طلب کرتے ہوئے کہہ رہا ہے سب کی ضمانت ہوگئی ہے سب اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہوجائیں پولیس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اب پولیس کسی کو گرفتار نہیں کرئے گی ملک ریاض صاحب اور علی صاحب نے سارے معاملات کو درست کرلیا ہے۔
حیرت اس بات کی ہے کہ سندھ حکومت کی رٹ کہاں ہے ابھی سندھ حکومت نے اس معاملے کا نوٹس لینے کا اعلان ہی کیا تھا کہ چند گھنٹوں میں ہی کارروائی کے بجائے سب کو کلین چٹ مل گئی۔
دوسری جانب تواتر کے ساتھ کچھ سماجی کاموں کی تصاویر اور کچھ لوگوں سے اپنے حق میں وڈیو بنا کر لوڈ کیجارہی ہیں جن کے ساتھ زبردستی اور دھوکہ دہی ہے وڈیو کلپ لوڈ کی گیں اس کا ڈراپ سین بھی فیس بک پر موجود ہے۔
دوستوں جس معاملے اور جس موضوع پر بحث یا نشاندھی کی جارہی ہے وہ ہے بحریہ ٹاؤن کے اطراف کی اراضی جس پر بحریہ اپنا حق جتاتے ہوئے اس کو قبضے میں لینا چارہا ہے اور وہاں کے مقامی احتجاج کررہے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی خاموشی پر سوشل میڈیا کی مہم نے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ میں کھلبلی مچا دی تو اسکا جواب جس انداز میں دیا جارہا ہے اسے کہتے ہیں سوال چنا اور جواب گنا۔۔۔
سوال یہ ہے کہ مقامی افراد سے انکی زمین جبراً کیوں لی جارہی ہے اور تشدد کیوں کیا جارہا ہے تو جواب میں کہا جارہا ہے کہ بحریہ ٹاؤن ایک خوبصورت پروجیکٹ جس کی پورے ملک میں مثال نہیں۔۔جناب بحریہ ٹاؤن بلاشبہ خوبصورت اور مثالی پروجیکٹ ہے لیکن کیا یہ اس سوال کا جواب ہے۔
بحریہ ٹاؤن کے مالک ریاض ملک سماجی کام کرتے ہیں پروجیکٹ میں خوبصورت مساجد بنارہے ہیں تو کیا انھیں یہ حق خود بخود مل گیا کہ وہ کہیں بھی کسی کی اراضی کو اپنا بنا لیں اس ملک میں پراپرٹی کی خرید وفروخت کے لیے باقاعدہ قوانین ہیں ان پر عمل درآمد ضروری ہے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے مطابق اگر وہ اراضی سپریم کورٹ نے ان کو دے دی ہے تو پھر بلڈوڈزر سیکورٹی اور پولیس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی سیدھا سیدھا اپنے ساتھ سپریم کورٹ کے آرڈر اور عدالتی عملہ اپنے ساتھ رکھیں۔
ملک ریاض سے اتنی گذارش ہے کہ بحریہ ٹاؤن کو متنازعہ پروجیکٹ نہ بنایا جائے جو زمین بحریہ ٹاؤن کو سپریم کورٹ نے جرمانے کے عوض دے دی ہے اس پر ہی کام کرئے مزید اراضی لینے کے لیے بھی مہذب طریقہ یعنی قانونی طریقہ اختیار کرئے۔پہلے کے ان سیکڑوں متاثرہ الاٹیز کی بددعائیں لینے کے بجائے ان کو متبادل پلاٹ دے یا انکی رقم واپس کرئے۔ گذشتہ دوسال سے لوگوں کو جھوٹی تسلیاں ہی دی جارہی ہیں
یہ بات سب کو یاد رکھنے کی ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ہمیشہ نہیں رہتا ہم سے پہلے بھی لوگ چلے گئے اور ہم بھی چلے جائیں گے بلآخر سب نے مرجانا ہے یہ دولت یہ زمین سب یہیں رہ جائیں گی صرف اپنے اعمال ساتھ لے جانا ہے۔ ملک ریاض تمہارے اچھے کاموں کا تمہیں اجر اللہ ضرور دے گا لیکن غریب لوگوں سے زیادتیاں اور انکی بددعاؤں کا بھی تمہیں حساب دینا ہوگا وہاں تمہاری دولت شہرت اور چمک کام نہیں آئے گی اور نہ ہی چمک کی دمک میں تمہارے پیچھے دم ہلانے والے وہاں کام آئیں گے۔ اس لیے زمین پر خدا بننے کے بجائے اس خدا سے ڈرو جس کے ہاتھ میں ہم سب کی جان ہے۔۔۔