نواز شریف کا پہلا وار … خواجہ آصف کی سربراہی میں نون لیگ کا قومی اسمبلی میں ہنگامہ

قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ نون کے پارلیمانی لیڈر کی تبدیلی کے فوراًبعد اجلاس میں ان ہماری ہوگی خواجہ آصف کی سربراہی میں اپوزیشن ارکان نے سپیکر قومی اسمبلی کی ڈائس کا گراؤ بھی کیا کیونکہ خواجہ آصف کو خطاب کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور مراد سعید کو بولنے کی اجازت دی گئی تھی جس پر ہنگامہ آرائی شروع ہوئی اور مسلم لیگ نون کے ارکان سمیت اپوزیشن نے اسپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کیا ۔
پارلیمنٹ کے باہر مسلم لیگ نون کے رہنماؤں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا مسلم لیگ نون کے رہنما سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اسپیکر اپنے رویے سے اپنا اعتماد کھو چکے ہیں ہم بھیک نہیں اپنا حق مانگ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اسپیکر سے درخواست ہے آپ پر پریشر ہے اس لیے استعفی دے دیں ۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن کو مہنگائی پر بات کرنے نہیں دیں گی تو پھر ایوان کو بھی نہیں چلنے دیں گے۔



سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں مسلم لیگ نون نے مختلف تبدیلیاں کرکے یہ واضح پیغام دے دیا تھا کہ آنے والے دنوں میں اپوزیشن حکومت پر دباؤ بڑھائے گی اور خواجہ آصف کو پارلیمانی لیڈر بنانے کا یہی مقصد تھا اور سب نے دیکھ لیا کہ خواجہ آصف کی سربراہی میں ان کا ماحول گرم ہو گیا اور بھائی جان کی سربراہی میں اپوزیشن ارکان نے اسپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کرلیا ۔یہ مسلم لیگ اور نواز شریف کی جانب سے حکومت پر اصل اپوزیشن کا پہلا وار ہے جو شہباز شریف کی موجودگی میں نہیں ہو رہا تھا کیونکہ شہبازشریف نے نرم رویہ اور نرم پالیسی رکھی ہوئی تھی نوازشریف کی ضمانت مسترد ہونے کے بعد مسلم لیگ نون کی پالیسی میں یکسر تبدیلی آگئی ہے اور اب جارحانہ انداز نظر آنے لگا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں