عمران خان کو ہٹا کر مسلم لیگ اور جہانگیر ترین کی مدد سے پیپلز پارٹی کے ذریعے قومی حکومت بنانے کا منصوبہ

وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے بعد ایک طرف پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر اعتماد نظر آتی ہے کہ عالمی حالات میں سعودی عرب کی مجبوریوں کی وجہ سے اور افغانستان تناظر میں پاکستان کی اہمیت کے پیش نظر سعودی عرب میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کے حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور کشمیر کے معاملے پر بھارت کے ساتھ پاکستان قومی بچت پر بٹھانے کے حوالے سے کردار ادا کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے اس طرح پاکستان کی معاشی مشکلات اور علاقائی اور عالمی تناظر میں کہاں ہو جانے کی مشکلات ختم ہو جائیں گی اور سعودی عرب افغانستان کے معاملے میں بھی پاور گیم کا حصہ بننے کی کوشش کرے گا یہاں پاکستان اس کی مدد کرے گا ان معاملات میں وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھ ساتھ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے اس لیے پی ٹی آئی کی قیادت پر اعتماد ہے کہ اب وہ باآسانی اگلا بجٹ منظور کروا کے اگلے دو سال تک پرسکون طریقے سے حکومت کرے گی اور مخالفین کے خلاف زیادہ جارحانہ انداز اختیار کر سکیں گے ۔
دوسری طرف حکومت مخالف حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کی ناقص کارکردگی سے بہت تنگ آ چکی ہے اور بیک ڈور رابطوں میں اپوزیشن کو اگلے سیٹ کے لیے راضی کر لیا گیا ہے اس حوالے سے شہباز شریف اور جہانگیر ترین اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ کافی معاملات طے پا چکے ہیں عمران خان کو اقتدار سے ہٹا کر مسلم لیگ نون اور جہانگیر ترین کی مدد سے پیپلزپارٹی کے ذریعے قومی حکومت بنانے کا پلان ہے جو اگلے ڈیڑھ سے دو سال حکومت کرنے کے بعد نئے الیکشن کروائے گی عمران خان کی رخصتی کیسے ہوگی اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ آپ نے مختلف پلانس اور اپوزیشن اپنی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے اگر عمران خان نے خود اسمبلیاں توڑ یں تو اس کا رزلٹ کیا ہوگا اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے لیے جہانگیر ترین گروپ کو استعمال کیا جائے گا مسلم لیگ نون پہلے مرحلے میں صرف پنجاب کی حکومت حاصل کرنے پر اکتفا کرے گی کیا شہباز شریف مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک کو منظم اور مستحکم کرتے ہوئے الیکشن کی تیاری کریں گے جبکہ نواز شریف اور مریم اپنے مقدمات سیدھا کرنے کے لیے قومی حکومت کے عرصے میں پیش رفت کر سکیں گے ۔مرکزی حکومت بظاہر ایک قومی حکومت ہوگی لیکن وہ مسلم لیگ نون کی بیساکھیوں پر کھڑی ہوگی اس لئے نواز شریف اور مریم نواز کو اس بات کا اطمینان ہوگا کہ وہ جب چاہیں اپنی حمایت کھینچ کر اس حکومت کو گرا سکیں گے یا نئے الیکشن کے لیے ماحول بنا سکیں گے ۔