کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تیلی … نواز شریف سے عمران خان کا موازنہ ہو ہی نہیں سکتا۔ نہال ہاشمی

  پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما نہال ہاشمی ایک مرتبہ پھر پورے جوش و خروش کے ساتھ سابق وزیراعظم نواز شریف کا دفاع کر رہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کے عمران خان کا کسی طور پر بھی نواز شریف کے ساتھ موازنہ نہیں ہوسکتا کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تیلی …نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں نا تو آئی ایم ایف سے وزیرخزانہ لیا۔نہ اسٹیٹ بینک کے لیے گورنر لیا اور نہ ہی ایف بی آر کے لیے چیئرمین لیا۔نواز شریف کی حکومت میڈ ان پاکستان بمقابلہ میڈ ان پاکستان تھی اور عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف بمقابلہ آئی ایم ایف بن چکی ہے ۔نہال ہاشمی نے ڈان نیوز کے پروگرام نیوز آئی میں میزبان مہر بخاری کے




سوالات اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور اور پی ٹی آئی کے رہنما صداقت عباسی کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کے ساتھ ڈالنا تو ورلڈ بینک کیا یہ محفل نوکری کرتے تھے نہ ہی باہر سے آئے تھے۔نواز شریف کے دور حکومت میں 35 ارب ڈالر کے قرضے اتارے گئے نواز شریف کے دور حکومت میں کراچی کو امن کا گہوارہ بنایا گیا نواز شریف کے دور حکومت میں چین کے ساتھ سی پیک کا بہت تاریخی معاہدہ کیا گیا نواز شریف کے دور میں بجلی کے نئے کارخانے لگائے گئے ۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے جو باتیں کی ہیں اس حکومت پر لفظ با لفظ صادق آتی ہیں حقیقت یہ ہے کہ اس وقت منتخب لوگوں کو سائیڈ پر کر دیا گیا ہے وہ ربڑ سٹیمپ کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں اور تمام فیصلے باہر سے لائے گئے ٹیکنوکریٹس آئی ایم ایف کے لوگ اور عمران خان کے ذاتی دوست کر رہے ہیں چاہے وہ زلفی بخاری کی شکل میں ہو جو دوہری شہریت کا حامل ہے یا وہ ندیم رضا کی شکل میں ہو جتنے ان کے چہیتے لوگ ہیں وہ سب کو لے آئے ہیں اور نظر آ رہا ہے کہ وہ دوسروں کی ڈکٹیشن پر چل رہے ہیں اس لحاظ سے مریم نواز نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ جو عوامی نمائندہ ہوتا ہے اس کے وزیر مشیر سب لوگ پارلیمنٹ کو جواب د ہ ہوتے ہیں کیونکہ پارلیمنٹ جمہور کا آئینہ ہوتا ہے وہاں جمہور بیٹھا ہوتا ہے لیکن جب حکومت جمہور کو باہر کر کے باہر کی ڈکٹیشن پر فیصلے کرے گی


یہ ٹیکنوکریٹ لوگ پارلیمنٹ کو تو جواب دے ہونگے نہیں پھر مہنگا ی ہوگی عوام پریشان ہوگی قاری باجوہ کے ذکر پر نہال ہاشمی نے کہا کہ طارق باجوہ ایک کیریئر آفیسر تھے وہ ایف بی آر میں رہے وہ فنانس سیکٹری رہے اور پھر گورنر اسٹیٹ بینک رہے وہ ایک ایماندار افسر ہیں کوئی ان پر انگلی نہیں اٹھا سکتا وہ میڈ ان پاکستان ہیں وہ ڈکٹیشن نہیں لیتے طارق باجوہ سے باقر رضا کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا جبکہ یہ لوگ اپنے ملک کو ترجیح نہیں دیتے رہے یہ لوگ ملک سے باہر جا کر نوٹ کمانے کے لیے وہاں نوکریاں کرتے رہے ڈالر کماتے رہے اپنے خاندان کے لیے سہولتیں لیتے رہے پاکستان ان کو پسند نہیں آتا تھا ۔نہال ہاشمی نے کہا کہ پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آجاتے ہیں دیکھ کا ایک چاول بتا دیتا ہے یہ کیسی ہے اس حکومت کے پہلے آٹھ مہینوں سے عوام کو پتہ چل گیا ہے اسکی اہلیت کتنی ہے ۔حیرت اس بات پر ہے کہ پی ٹی آئی کے حکومت اپنے منتخب ایم این اے صداقت عباسی پر تو اعتماد نہیں کرتی لیکن وہ فردوس عاشق اعوان کو ترجمان بنانے پر اعتماد کرتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں