ڈیرہ بگٹی کے لوکل انجینئروں پر او جی ڈی سی ایل کمپنی کی ناانصافیاں عروج پر

ضلع ڈیرہ بگٹی صوبہ بلوچستان کا تیل اور گیس کے ذخائر کے حوالے سے ایک امیر ترین علاقہ ہے۔اس علاقے میں 1952 ٕ سے پاکستان کے مختلف گیس کمپنیاں خاص طور پر پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل گیس نکال کر ملک کے دیگر شہروں میں منتقل کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ڈیرہ بگٹی پاکستان کی معیشت کو بڑھانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور او جی ڈی سی ایل کمپنی پچھلی کئی دھائیوں سے ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیرکوہ،اوچ،زین کوہ گیس فیلڈ سے گیس نکال رہی ہے اور اس کے علاوہ کافی جگہوں پہ تلاش بھی جاری ہے۔ اور اوچ گیس فیلڈ سے روزانہ 400 ملین کیوبک فِٹ گیس نکال کر اوچ پاور پلانٹ کو ترسیل کرتے ہیں جہاں اوچ پاور پلانٹ بجلی پیدا کرکے منہ بولے داموں فروخت کرتے ہیں جس سے ملک کے کونے کونے میں بجلی استعمال ہوتی ہے ۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلع ڈیرہ بگٹی ابھی تک گیس اور بجلی جیسی نعمت سے محروم ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ لکڑیاں اور لالٹین جلا کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں اور پانی تو دوائیوں کی طرح دیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ ڈیرہ بگٹی کے مکینوں کو ان تمام تر سہولیات اور روزگار دلانے کے لۓ نواب اکبر بگٹی نے ان گیس کمپنیوں پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل سے ایگریمنٹ بھی دستخط کیا تھا۔ جس میں خاص طور پر لکھا ہے کہ او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل ڈیرہ بگٹی سے سالانہ 21 بشمول انجینئر اور ڈپلومہ ہولڈروں کو مستقل طور پر بھرتی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرینگے علاوہ ازیں اگر ضرورت پڑی تو ڈیرہ بگٹی کے تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کوبھرتی کرنے کے پابند ہونگے اور ڈیرہ بگٹی میں تعلیم یافتہ نوجوان ناپید ہونے کی صورت میں صوبہ بلوچستان کے دیگر اضلاع سے ڈگری ہولڈروں کو بھرتی کرنے کے پابند ہونگے۔ ٹھیک اسی طرح او جی ڈی سی ایل اور دیگر گیس کمپناں اسی ایگریمنٹ پر ماضی میں عمل کرتےہوۓ دکھائی دیئے لیکن بدقسمتی سے 2006 میں نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد خاص طور پر او جی ڈی سی ایل نے ڈیرہ بگٹی کے انجینئروں سے نظریں پھیر لیں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی شکل میں نظر آنے لگے۔ ڈیرہ بگٹی انجینئروں کی نئی بھرتی تو ایک خواب بن کر رہ گئی لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ لکھنا پڑرہا ہے کہ جو انجینئر بھرتی تھے انہیں بھی کافی مرتبہ دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ میں یہ بھی لکھنا چاہوں گا کہ ڈیرہ بگٹی کے تقریباً 13 انجینئر قریباً 2010 سے او جی ڈی سی ایل میں عارضی بنیادوں میں کام کررہے ہیں جو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے اور او جی ڈی سی ایل انتظامیہ کی جانب سے انتہائی شرمناک کارکردگی ہے۔


کیونکہ کمپنی انتظامیہ کے افسروں نے کئی مرتبہ مستقل کرنے کیلیۓ لوکل انجینئروں کے ساتھ اپنے بھانجوں،بھتیجوں اور بیٹوں کو انٹرویو کیلیۓ بلایا لیکن آخر میں بھرتی بھانجوں،بیٹوں اور بھتیجوں کی ہوئی جس میں او جی ڈی سی ایل کے سابق جنرل منیجر پروسس اینڈ پلانٹ عمران شوکت کے بیٹے طلحٰہ عمران زندہ مثال ہیں جو قادر پور گیس فیلڈ میں بطور انسٹرومنٹ آفیسر کام کررہے ہیں اور جس میں ملک ارشد کا بیٹا ۔ عیسیٰ سولنگی کا بیٹا اور اجمل خٹک کا بیٹا شامل ہیں،
آخر کیوں لوکل انجینئروں کے ساتھ یہ ناروا سلوک اپنایا جارہا ہے؟  آخر کیا وجہ ہے کہ لوکل انجینئر اس مستقل کے میٹھے الفاظ کو ترس رہے ہیں؟
 
آخر کیوں لوکل انجینئر انتہائی محنت اور مشّکت سے کام کرنے کے باوجود انتہائی دردناک زندگی گزارنے پے مجبور ہیں؟ 
کیا قانون سب کیلیۓ برابر نہیں؟ 
کیا ڈیرہ بگٹی کے انجینئروں کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ نہیں؟ 
کیا ہماری ڈگریاں ملک کے دیگر صوبوں کے انجینئروں کی ڈگریوں کے برابر نہیں؟


اگر سب کچھ ہے تو کیوں ہمیں مستقل نہیں کیا جارہا ؟
حالانکہ پاکستان کا آئین ہمیں یہ حق دیتا ہے کہ 90 دن کے بعد ہر ملازم کا بنیادی حق ہے کہ انھیں مستقل کیا جاۓ۔ لیکن او جی ڈی سی ایل پاکستان کے آئین کو ماننے کیلیۓ بالکل تیار نہیں اور نہ ہی نواب اکبر بگٹی کے ایگریمنٹ ماننے کو تیار ہے۔ صرف اور صرف ڈیرہ بگٹی کے لوکل انجینئروں کے ساتھ او جی ڈی سی ایل کمپنی کی ناانصافیاں عروج پر ہیں۔ ہم مستقل نہ ہونے کی وجہ سے سفری الاوٗنس،میڈیکل الاوٗنس،رہائشی الاوٗنس، میس الاوٗنس، فیلڈ الاوٗنس کے ساتھ ساتھ دیگر سیفٹی کی سہولیات سے محروم ہیں اور اذیت کی زندگی گزارنے پے مجبور ہیں ،
لہٰذہ ہم وزیراعظم پاکستان،چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف جسٹس آف بلوچستان ہائی کورٹ اور دیگر اعلیٰ عہدیداران سے اپیل کرتے ہیں کہ او جی ڈی سی ایل انتظامیہ کو ہدایت جاری کریں کہ ہمیں مستقل کرکے اذیت کی زندگی سے نجات دلائیں تاکہ ہم دل کھول کر پاکستان کی ترقی کیلۓ اپنے فرائض سرانجام دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں