آخری فیصلہ میرا ہوگا ۔ وزیراعظم عمران خان کا پارٹی ارکان کو دو ٹوک جواب

پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین اسمبلی نے وزیراعظم عمران خان کے سامنے گلے شکوے کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم غیر منتخب افراد کو اہم عہدوں سے نوازنے پر اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں۔اجلاس میں یہ بات بھی کی گئی کہ پارلیمنٹ کے اندر ایک سے بڑھ کر ایک ذہین اور قابل لوگ موجود ہیں پھر ویئر منتخب افراد کو اعلی عہدوں پر لانے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے ۔یہاں تو کہا گیا کہ جن لوگوں کو ہزاروں ووٹوں کے مارجن سے شکست ہوئی ان کو ترجمان بنایا جارہا ہے پارلیمنٹ میں اہ لوگ موجود ہیں جو عوام کے ووٹوں سے جیت کر آئے میں انہیں عوام کے ووٹوں کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل ہے پھر کیا وجہ ہے کہ غیر منتخب لوگوں کو مسلط کیا جارہا ہے یہ ناقابل قبول ہے ناقابل برداشت ہے اور سمجھ سے بالاتر ہے اس طرح تو اپوزیشن کو ہم خود تنقید کا موقع دے رہے ہیں ہم دوسروں پر جو اعتراض کرتے تھے وہی کام اب ہم خود کر رہے ہیں ۔


وزیراعظم عمران خان نے اراکین اسمبلی کی شکایت کو سنا اور کہا کہ ملکی معیشت کو ٹھیک کرنا ہے اس لئے مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں اپنے فیصلوں کی ذمہ داری خود لیتا ہوں آپ کے تحفظات اپنی جگہ ٹھیک ہیں لیکن آپ لوگ مجھے مشورہ ضرور دیں لیکن آخری فیصلہ میرا ہوگا اور مجھے فیصلہ کرنے دیں کیونکہ مجھے پتا ہے کہ اس کے کیا نتائج آئیں گے اسد عمر کل بھی میرا رائٹ ہینڈ تھے آج بھی میرا رائٹ ہینڈ ہیں اور جلد ہی وہ آپکو کبھی نہ میں واپس نظر آئیں گے ۔


اپنا تبصرہ بھیجیں