نواز شریف اپنے بھائی شہباز شریف سے ناراض جبکہ والدہ پریشان ہیں

عمران خان کی ریحام خان سے شادی اور طلاق کے حوالے سے سب سے پہلے اب بالکل درست خبر بریک کرنے والے پاکستان کے معتبر صحافی عارف نظامی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اپنے بھائی شہباز شریف سے ناراض ہیں نوازشریف سمجھ رہے تھے کہ شہباز شریف کی لندن میں موجودگی سے ان کو سیاسی فائدہ ہوگا اور وہ بھی جلد لندن پہنچ جائیں گے لیکن ان کی ضمانت مسترد ہوگئی جس پر انہیں ملال ہے اور وہ اپنے بھائی کی کوششوں کے نتائج سے ناخوش ہیں جس کا اظہار انہوں نے شہباز شریف سے کر بھی دیا ہے شہباز شریف بھی اس صورتحال پر اپنے بڑے بھائی کو مطمئن نہیں کر سکے۔


سابق وزیراعظم نواز شریف کے دوبارہ جیل چلے جانے سے ان کی والدہ بے حد پریشان ہیں۔
دادی کو سہارا دینے کے لیے مریم نواز گھر پر موجود ہیں انہیں گھر کو بھی دیکھنا ہے اور سیاست کو بھی ۔والد کو بھی دیکھنا ہے اور پارٹی کو بھی۔
سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ نواز شریف نے دوبارہ جیل جانے سے پہلے مریم نواز کو آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے تیار کر دیا ہے مریم نواز سوشل میڈیا پر خود کو اور پارٹی کو متحرک اور فعال رکھیں گی حکومت پر دباؤ بڑھائیں گے اور اپنے والد کی عوامی مقبولیت کے حوالے سے صورتحال کو پوری دنیا کے سامنے رکھی گئی تا کہ سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ مقتدرحلقوں کو بھی دباؤ میں لا کر اپنے لئے بہتر سیاسی گنجائش حاصل کی جا سکے۔


پاکستان کے ایک اور مشہور صحافی تجزیہ کارنجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں یعنی نواز شریف اور شہباز شریف نے فیصلہ کرلیا ہے کہ دونوں ایک وقت میں جیل نہیں جائیں گے اسی لیے شہباز شریف برطانیہ میں روک گئے اور انہوں نے صورتحال کا جائزہ لیا ہے اگر نواز شریف کے ساتھ ساتھ شہباز شریف بھی جیل چلے جاتے ہیں تو پھر پارٹی کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گے اس لئے شہبازشریف اللہ قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں گے اگر انہیں پاکستان آنا پڑتا ہے تو پھر ہم جیل ان کی منتظر ہوگی اور اگر ان کی ضمانت مسترد ہو جاتی ہے تو پھر انہیں واپس آنا پڑے گا جادو کچھ دن شہباز شریف کو بھی جیل میں گزارنے پڑے گے اور جدوجہد کھانی پڑے گی اگر سیاسی کیریئر بچانا ہے تو پھر جیل کی سختیوں کو بھگتنا پڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں