چین کی ایغور مسلمان عورتوں کے مسائل پر ریاست مدینہ کے حکمران خاموش کیوں؟ ترکی بول پڑا باقی مسلمان دنیا تماشائی بن گئی

اس میں کسی کو شک نہیں کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کا بے حد احترام اور عزت کرتے ہیں دونوں ملک سی پیک منصوبوں کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کے نئے انقلابی دور میں داخل ہونے کے منتظر ہیں دونوں ملک عالمی فورمز پر ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ نظر آتے ہیں چین کا دشمن پاکستان کا دشمن پاکستان کا دشمن چین کا دشمن ۔

پاک چین دوستی کے حوالے سے اچھی اچھی خبریں سننے کو ملتی رہی ہیں اس لیے کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ پاکستانی لڑکیوں کو شادی کے ذریعے چین اسمگل کرکے وہاں ان پر جسمانی تشدد اور بدسلوکی کی جاسکتی ہے ۔لیکن چین سے واپس آنے والی پاکستانی لڑکیوں نے جو دکھ بھری داستان بیان کی ہے اسے سن کر بہت افسوس ہو رہا ہے چین کے چند باشندوں نے پاک چین دوستی کا غلط استعمال کیا ہے اور پاکستانی معصوم لڑکیوں سے شادیاں کرکے انہیں چین لے جاکر جس بدترین تشدد اور بدسلوکی سے گزارا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اسی لئے ہر فورم پر اس کی ایک مذمت کی جا رہی ہے اور یہ معاملہ حکومتی سطح پر بھی اٹھا ہے اور ایسے لوگوں کی سرکوبی کی جارہی ہے جو دونوں ملکوں کی نیک نامی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔
ماضی میں چین کی حکومت کو پاکستان کے بعض عناصر سے شکایت رہی تھی جو چین کے مسلمان صوبوں میں انتہا پسندی کو فروغ دینے میں ملوث بتائے گئے تھے پاکستان میں ایسے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔


اب دنیا بھر میں چین کے ایغور مسلمان بالخصوص مسلمان عورتوں کے ساتھ چین میں روا رکھے جانے والے سلوک پر بحث ہورہی ہے ۔یہ حقائق بھی سامنے آچکے ہیں کہ جن پاکستانی مردوں نے چینی مسلمان عورتوں سے شادیاں کیں وہ پریشان ہیں کیونکہ ان کی بیویوں کو چین کے مخصوص کیمپوں میں رکھ کر ان کی برین واشنگ کی جارہی ہے یا ان کو ایسے حالات میں رکھا جارہا ہے جہاں انہیں حرام کھانے کو ملتا ہے اور انہیں مسلمان روایات سے ہٹ کر کیمونسٹ روایات کو اختیار کرنا پڑتا ہے بعض بیویوں کو ان کے شوہر سے چھ چھ مہینے تک ملنے نہیں دیا گیا ان کی کوئی خیر خبر حاصل کرنا بھی مشکل بنا دیا گیا۔
چین میں مسلمانوں کے ساتھ کیا رویہ رکھا جارہا ہے اس پر ترکی تو بول اٹھا لیکن ریاست مدینہ کے حکمران یعنی پاکستانی وزیراعظم عمران خان سمیت مسلم دنیا کے دیگر حکمران خاموش ہیں اس پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
دنیا بھر میں ماہ مقدس رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہے رمضان کریم کی رونقیں دنیا بھر میں نظر آرہی ہیں چاہے وہ مسلمان پاکستان کے ہوں ناروے کے آئس لینڈ کے انڈونیشیا کے ملائیشیا کے سعودی عرب کے ایران کے عراق کے افغانستان کے … ہر جگہ رمضان کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں اور روحانیت کی ہیروئن کہیں دیکھنے کو مل رہی ہیں لیکن اگر کہیں کچھ نظر نہیں آ رہا تو پاکستان کا پروسیم ہوچکی ہے جہاں مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ اور اس کے مسلمان۔
چینی مسلمانوں کے لیے بھی رمضان اتنا ہی بابرکت اور مقدس ہے جتنا باقی دنیا کے مسلمانوں کے لیے۔
لیکن چینی مسلمانوں کی رونقین اس لئے نظر نہیں آرہی کے وہاں کی ایک ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ تین سال سے وہاں کے مسلمانوں پر روزہ رکھنے پر پابندی عائد کی گئی ہے رمضان میں عائد کی جانے والی پابندیوں کا اطلاق اسکولوں اور دفاتر پر کیا گیا ہے. 
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین میں تقریبا دس لاکھ مسلمانوں کو نظر بندی کے وسیع کیمپوں میں رکھا گیا ہے وہاں پر ان پر شدید ذہنی دباؤ ڈالا جاتا ہے ان کے لیے چینی زبان اور ہنر سیکھنے کے ساتھ ساتھ خود کو اپنی مذہبی شناخت ترک کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔


بظاہر چین ان اقدامات کو انتہا پسندی روکنے کی وجوہات بتاتا ہے لیکن اس سارے عمل کو انتہائی پابند ماحول میں رکھا جاتا ہے اور چین سے باہر خبریں نہیں آنے دی جاتی دوسرے ملکوں کے لئے اسے چین کا گریلوی اندرونی معاملہ قرار دے کر بات کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی یہ واضح اٹھائی جارہی ہیں کہ چینی مسلمانوں کو بھی روزہ رکھنے کی آزادی ہونی چاہئے اور انہیں بھی اپنی مذہبی عبادات اصلی آزادی اور اختیار کے ساتھ منانے دینی چاہیے جس طرح دنیا کے دیگر مذاہب کے لوگ مختلف ملکوں میں رہ کر مذہبی آزادی حاصل کیے ہوئے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں