صوبے کا گورنر عمران اسماعیل سندھ کا گوربا چوف کیوں بننا چاہتا ہے؟

سندھ کے گورنر عمران اسماعیل جوس کی فیکٹری چلاتے چلاتے سیاست میں آئے اور سیاست کرتے کرتے گورنرسندھ بن گئے لیکن جس صوبے کے گورنر ہیں اسی صوبے کے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں اس لیے سندھ بھر میں ہی نہیں پورے ملک میں ان کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور انہیں گورنر سندھ کے عہدے سے فوری طور پر برطرف کرنے کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے سندھی قوم پرستوں کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ نون نے بھی عمران اسماعیل کو گورنر سندھ کی برطرفی کا مطالبہ کردیا ہے سندھ میں جی ڈی اے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس پہلے ہی یہ مطالبہ کر چکا ہے۔


پاکستان مسلم لیگ نون کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبے کی بات کر کے گورنر سندھ عمران اسماعیل عہدے پر رہنے کا حق کھو چکے ہیں گورنر سندھ کو فوری طور پر برطرف کیا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ایم آفس کرپشن یونیورسٹی بن چکی ہے نیٹ کے گورنر وفاق کا نمائندہ ہے اس کا سیاسی تعلق نہیں ہوتا گورنر کا کام وفاقی مضبوطی ہوتا ہے لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے گورنر نئے صوبے کی بات کر رہا ہے حالانکہ گورنر نئے صوبے سے متعلق کوئی بات نہیں کر سکتا ۔اگر سے بات کرنی ہے تو پہلے آدھا چھوڑنا ہوگا تقسیم سندھ کی بات کرکے گورنرسندھ گوندل رہنے کا حق کھو چکے ہیں وزیراعظم اور صدر مملکت گورنر سندھ کے بیان کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں برطرف کریں مشاہداللہ خان کا کہنا تھا کہ سندھ میں صوبہ بننے کی رائے دینے کا گورنر کو کوئی حق حاصل نہیں۔


سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران اسماعیل کو سندھ کی تقسیم کی بات کرکے مشکلات کا سامنا ہے پورا سندھ انہوں نے اپنے خلاف کر لیا ہے دیگر صوبوں اور اسلام آباد سے بھی ان کے خلاف آوازیں آ رہی ہیں سمجھ نہیں آتا کہ انہیں سندھ کا گورباچوف بننے کا شوق کیوں ہوگیا ۔سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والا گورباچوف آج بھی لوگوں کو نہیں بھولا اور سندھ کے ٹکڑے کرنے کی بات کرنے والا گورنر عمران اسماعیل کیا لوگوں کو کبھی بھول سکے گا؟ سیاسی مبصرین کے مطابق اکثر حکومتی شخصیات اقتدار کے نشے میں چور ہو کر ایسی باتیں کر جاتی ہیں جس پر بعد میں انہوں نے اپنا بیان واپس لینا پڑتا ہے یا ساری عمر اس پر پچھتانا پڑتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں