کپتان کی حکومت نے جیل سے نواز شریف کا اے سی اتار دیا ۔ نواز شریف نے دوسرا اے سی منگوا لیا

سابق وزیراعظم نواز شریف جب دوبارہ کوٹ لکھپت جیل پہنچے تو کپتان کی حکومت نے انکا اے سی اتار لیا تھا اور نواز شریف نے دوسرا اے سی منگوا لیا۔یاد رہے کہ نوازشریف کی چھے ہفتے کی ضمانت کی مدت مکمل ہونے کے بعد نواز شریف ایک جلوس کی شکل میں کوٹ لکھپت جیل پہنچے تو پہلے سے دیے گئے کمرے میں سے ان کا اے سی غائب تھا ۔نوازشریف کو مجبورا ًدوسرا ایئرکنڈیشن منگوانا پڑا۔ جیل سے نواز شریف کا ایئرکنڈیشن غائب ہونے کا معاملہ ایک ایسے صحافی نے بریک کیا جسے خود بھی کچھ عرصہ پہلے جیل میں رہنے کا اتفاق ہو چکا ہے اور اس کے اپنے خلاف بھی کرپشن کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے یا اگلی پیشی پر فرد جرم عائد ہونی ہے۔ نواز شریف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کپتان کی حکومت نواز شریف کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہی وزیراعظم عمران خان باتیں تو ریاست مدینہ کے حکمرانوں جیسی کرتے ہیں لیکن ان کا عمل انتہائی افسوسناک بلکہ شرمناک ہے۔


جبکہ نواز شریف نے اپنے دور میں ہمیشہ لوگوں کے ساتھ نرم رویہ رکھا۔ نواز شریف کے سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ نواز شریف جب تک قوم کا پیسہ واپس نہیں کرتے انہیں ایئرکنڈیشن بھی نہیں دینا چاہیے اور انہیں جیل میں سخت گرمی میں رہنا چاہیے جس طرح دیگر قیدی رہتے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو جیل مینول کے مطابق جو سہولتیں فراہم کی جانا ضروری ہوتی ہیں وہ حکومت کو فراہم کرنی چاہیے اس سلسلے میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے نوازشریف کو بھی صرف وہی سہولتیں مل رہی ہیں جو جیل مینول کے مطابق ان کا حق بنتی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعظم عمران خان ہو یا وزیر اعلی پنجاب عثمان بوزدار ۔حکمرانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سیاسی مخالفت میں کچھ اخلاقی قدریں بھی ہوتی ہیں ۔نوازشریف کا جیل سے ائرکنڈیشن اتار کر آخر یہ حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے ایسے اقدام سے حکومت کی کوئی نیکنامی نہیں ہوگی بلکہ نواز شریف کے ساتھ لوگوں کی ہمدردیوں میں مزید اضافہ ہوگا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں