جناح اسپتال کراچی میں ساڑھے تین ہزار ایسے مریضوں کو لایا جا چکا ہے جن کو آوارہ کتوں نے کاٹا,,,

کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں آوارہ کتوں کی بہتات کی وجہ سے ایسے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے جہاں کتے کے کاٹنے کے نتیجے میں ہونے والی بیماری ریبیز سے متاثرہ افراد جان کی بازی ہار بیٹھے ہیں کراچی میں حالیہ دنوں میں ایسی اموات کی تعداد چار ہو گئی ہے سانگھڑ سے تعلق رکھنے والا 11 سالہ بچہ کراچی لایا گیا تھا لیکن اس کی بھی موت ہوگی ماہرین کا کہنا ہے کہ راویز ایک جان لیوا بیماری بن جاتی ہے لیکن پاگل کتے کے کاٹنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اس بیماری کا مکمل علاج ممکن ہے اور اس سے محفوظ رہا جاسکتا ہے اگر متاثرہ فرد کو فوری طور پر ویکسین لگوا دی جائے اور کورس مکمل کرایا جائے لیکن کراچی سمیت صوبے بھر میں ایسی ویکسین نایاب ہے اس لیے فوری طور پر علاج نہیں ہو بتا اینٹی ریبیز ویکسین کی شدید کمی ہے۔


جن اسپتال کراچی میں اب تک ساڑھے تین ہزار ایسے مریضوں کو لایا جا چکا ہے جن کو آوارہ کتوں نے کاٹا تھا اور ان میں متاثرہ بچوں کی تعداد 40 فیصد سے زیادہ رہی ہے جن اسپتال کراچی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے اس صورت حال کو تشویشناک قرار دیا ہے حکومتی اداروں خاص طور پر منسپل اداروں کو ختم کی تعداد میں کمی لانے کی شدید ضرورت ہے تاکہ عوام کو کتوں کے کاٹنے سے بچایا جا سکے دوسری جانب انڈس اسپتال کراچی کے حوالے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہاں پر اب تک ریبیز کے نتیجے میں تین ہلاکتیں ہو چکی ہیں انڈس اسپتال میں روزانہ 30 سے 35 نئے مریض کتے کے کاٹنے کے نتیجے میں لائے جارہے ہیں ان مریضوں کا تعلق کراچی سندھ کے دیگر شہروں اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے ہوتا ہے اینٹی ریبیز ویکسین چونکہ پاکستان میں شدید کمی کا شکار ہیں اور یہ ویکسین بھارت سے منگوائی جاتی ہے بھارتی حکام محدود مقدار میں یہ ویکسین پاکستان کو فراہم کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں