بلاول کی جانب سے جہانگیر ترین کو نائب وزیراعظم بننے پر طنزیہ مبارکباد

پہلے صرف شاہ محمود قریشی کی جانب سے جہانگیر ترین کے خلاف طنزیہ باتیں سامنے آ رہی تھیں اب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی یہ کھیل شروع کردیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کے نشتر چلانے کے ساتھ ساتھ جہانگیر ترین پر بھی طنزیہ جملے کسنا شروع کر دیے ہیں۔بلاول نے جہانگیر ترین کو نائب وزیراعظم بننے پر طنزیہ مبارکباد پیش کی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق بلاول نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ وزیراعظم کے تمام فیصلے جہانگیرترین کے کہنے پر ہو رہے ہیں اور جہانگیر ترین نے اس پارٹی اور حکومت میں سب سے مضبوط ترین شخصیت بن کر ابھرے ہیں اور انہیں غیر اعلانیہ طور پر نائب وزیراعظم کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے کیونکہ وہ کابینہ کے اجلاس میں خاص طور پر بلائے جاتے ہیں حالانکہ ان کو سپریم کورٹ نااہل قرار دے چکی ہے۔


بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج خان صاحب اسمبلی میں آئے مگر نہ کوئی بیان دیا نہ سوالوں کے جواب …اگر کچھ کرنا نہیں تھا تو آئے کیوں تھے؟ بلاول نے وزیراعظم کو بزدل کا خطاب بھی دے دیا۔ بلاول کا کہنا تھا بزدل وزیراعظم نہ اپوزیشن کا سامنا کر سکتے ہیں نہ میڈیا کی تنقید کا۔ مطالبہ کیا گیا معاہدہ پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے سامنے حکومت بری طرح بچھ چکی ہے اچانک سے وزیرخزانہ گورنرسٹیٹ بینک چیئرمین ایف بی آر کو ہٹا دیا گیا یہ فیصلے کوئی اور تو نہیں کر رہا؟ بلاول کے بیان پر وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کہاں چپ رہنے والی تھیں وہ فوراً بول پڑیں کہ بلاول آئی ایم ایف کی فکر چھوڑ دیں اور سندھ میں ہونے والی کرپشن اور لوٹ مار کی فکر کریں اور یہ بتائیں کہ لاڑکانہ میں ایڈز سے متاثرہ افراد کے گھروں پر تسلی دینے کیوں نہیں گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں