پاکستانی لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کا اسکینڈل … 18 سے 35 لاکھ روپے کاریٹ مقرر

پاکستانی لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کے اسکینڈل میں مزید بارہ چینی باشندے گرفتار کر لیے گئے ہیں ایف آئی اے اور پولیس نے اس حوالے سے اہم معلومات حاصل کی ہیں ۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے اسلام آباد سے جلد چینی باشندوں کو گرفتار کیا ہے ان میں دو خواتین بھی شامل ہیں یہ گرفتاریاں سیکٹر آئی الیون سے عمل میں لائی گئی ہیں۔ دوسری طرف معصوم پاکستانی لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دے کر چین اسمگل کرنے کے نیٹ ورک کے متعلق پولیس نے مزید انکشافات کیے ہیں۔ پولیس کے مطابق فیصل آباد میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والا چینی باشندہ شادیاں کرانے کے نیٹ ورک کا حصہ رہا ہے مسٹر ز ن کی بیوی اور والد نے چین میں میرج بیورو بنایا ہوا ہے شادی کے ایوز یہ گروہ چینی افراد سے 18 سے 15 لاکھ روپے وصول کرتا ہے یہ ریٹ مقرر ہے جس کے بعد پاکستان میں ان چینی باشندوں کی شادی کا اہتمام کیا جاتا ہے اور پھر وہ لڑکی پاکستان سے چھین لے کر جاتے ہیں۔


یہ شکایات سامنے آئی تھیں کہ پاکستان سے جن لڑکیوں کو شادی کر کے چین لے جایا گیا ان میں سے بعض کو جسم فروشی پر مجبور کیا گیا اب اس پر تشدد کیا گیا اور بعض کے جسم کے اہم آزاد چوری کر کے فروخت کردیئے گئے ان شکایات میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا لہٰذا حکومت پاکستان اور چین کے درمیان اس معاملے کو اٹھایا گیا اور پاکستان میں ایسے چینی باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا جو خود کو جعلی مسلمان کے طور پر پیش کر کے مسلمان لڑکیوں سے شادی کر رہے تھے یا پھر عیسائی لڑکیوں کو یہاں سے شادی کرکے چھین لے جارہے تھے اور ان کے ساتھ دھوکا ہو رہا تھا۔ چین سے بھاگ کر واپس گجرانوالہ پہنچے والی ایک لڑکی نے تنسیخِ کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے چینی شہریوں کا پاکستانی لڑکیوں سے شادی کا معاملہ مزید وسعت اختیار کر چکا ہے گوجرانوالہ کی ربیعہ شوہر کے تشدد سے تنگ آ کر چین سے واپس پاکستان آگئی اور اس نے سینئر سول جج کی عدالت میں تنسیخِ نکاح کے لیے دعویٰ دائر کردیا متاثرہ پاکستانی لڑکی نے چین میں پاکستانی سفارتخانے سے مدد طلب کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں