ایف بی آر میں پیرا شوٹر : تحریر… خورشید علی شیخ

 

سید شبر زیدی جن کیلئے ایف بی آر میں پیراشوٹر کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے کا بطور ایف بی آر کے چیئرمین تقرر ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز کے دو ہزار سے زائد افسران کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ یہ وزیراعظم عمران خان کا غلط فیصلہ ثابت ہوگا اور ٹیکس مشینری کے زنگ آلود پہیوں کو مزید جام کر دے گا.
آج صبح اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے شبر زیدی کی تقرری کی سمری پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مفادات کے ٹکراؤ سے تعبیر کیا کیونکہ وہ ایک معروف اکاؤنٹنگ فرم فرگوسن کے پارٹنرز میں سے ہیں. جب یہ سمری وزیراعظم کو پیش کی گئی تو اس پر نیور پریذینٹڈ  کا آپشن استعمال کیا گیا اور تحفظات کے بغیر تازہ سمری پیش کرنے کی ہدایت   کی   گئی   جس   پر   اسٹیبلشمنٹ  ڈویژن   میں


دوڑیں لگی ہوئی ہیں. آج فیڈرل بورڈ آف ریوینیو اپنی تاریخ میں بلند ترین شارٹ فال تقریبا 348 ارب روپے کے دہانے پر ہے۔ ایسے موقع پر نئے پیراشوٹر چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی کے لیے ادارے میں اصلاحات لانا اور ٹیکس نظام میں بہتری سب سے بڑا چیلنج ہے لیکن اس سے پہلے ایک اور چیلنج جو ان کا منتظر ہے وہ ایف بی آر کی ٹیم ہے جس کی طرف سے اس تعیناتی کی قانونی بنیادوں پر’ مخالفت کی جا رہی ہے۔
ایف بی آر میں پاکستان کسٹم آفیسرز ایسوسی ایشن اور ان لینڈ ریونیو سروس آفیسر ایسوسی ایشن، دونوں اس تعیناتی پر شدید اپ سیٹ ہیں. اگرچہ دونوں گروپس عموماً آپس میں گتھم گتھا رہتے ہیں اور لڑتے لڑتے ایک کی چونچ اور دوسرے کی دم، گم ہوجاتی ہے.
شبر زیدی معروف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور کئی دہائیوں سے ملک کے بعض بڑے کاروباری اداروں کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ‘ٹیکس قوانین کے شعبے میں پاکستان میں ماہر ترین افراد میں سے ایک ہیں’۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کہ کیا اس وقت ایف بی آر کو قوانین کا ماہر چاہیے یا ایک مرد میدان چاہیے.؟؟ دیکھا یہ گیا ہے کہ جب حکومتیں خود ‘کھسی’ ہوجاتی ہیں اور اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ٹیکس جمع نہیں کرپاتیں تو تب وہ ایف بی آر کو’ پنچنگ بیگ ‘بنا لیتی ہیں.
سابق فوجی صدر جنرل ر پرویز مشرف کے دور میں عبداللہ یوسف کو بھی اسی طرح تعینات کیا گیا تھا اور یہاں تک کہ انہیں باقاعدہ ‘اِنڈکٹ’ کر کے سیکرٹری بھی بنادیا گیا’ جبکہ ارشد علی حکیم کی تعیناتی کے خلاف معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں گیا تھا اور اب ایک بار پھر اسے کیس کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ محکمے کے افسران کا موقف ہے کہ چیئرمین اور سیکرٹری ریوینیو کی آسامی پُر کرنے کے لیے اسی شعبے کے اعلی افسران کو موقع ملنا چاہییے نہ کہ دیگر محکموں سے افسران یہاں تعینات کیے جائیں۔


جیسا کہ گذشتہ ہفتے عہدے سے ہٹائے گئے چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان( ڈی ایم جی /پی اے ایس) کی تعیناتی پر بھی ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز کے افسران ناخوش تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ عہدے صرف محکمے کے افسران کو ہی ملنا چاہیے کسی پیرا شوٹر کو نہیں ۔
جون 2013 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیئرمین ایف بی آر ارشد علی حکیم کی بطور چیئرمین تعیناتی کا نوٹیفیکیشن منسوخ کر دیا تھا۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس وقت ان کی تعیناتی کو کاالعدم اور طریقہ کار کے منافی قرار دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ کیسے پرائیویٹ سیکٹر سے ایک شخص کو بغیر اشتہار اور مقابلے کے اس اہم عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ عہدے کی تعیناتی نجی سیکٹر سے کرنے کی صورت میں پہلے آسامی اور قابلیت سے متعلق اشتہار دیا جاتا ہے، جس کے بعد سلیکشن کمیٹی امیدواروں کا جائزہ لیتی ہے۔ تاہم ارشد علی حکیم اور اس کے بعد شبر زیدی کی تعیناتی پر اس طریقہ کار پر بظاہرعملدرآمد نہیں کیا گیا ہے۔