سڑک کنارے پھل بیچنے والی بیوہ کی قسمت جاگ اٹھی یو اے ای سفیر نے پھل فروش خاتون کو اسلام آباد میں گھر تحفے میں دے دیا

یہ کوئی پہلی مثال نہیں ہے کہ پاکستان میں کئی بہادر اور خوددار خواتین مجبوری اور غربت کے عالم میں پھل بیچتی یا لوگوں کے گھروں میں کام  کرتی نظر آتی ہیں۔اس سے ان کا اپنا پیٹ پالنا ہی مقصود نہیں ہوتا بلکہ وہ  اپنے بچوں کی خوراک کا بندوبست بھی کر رہی ہوتی ہیں۔ آپ پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر کی کسی بھی مین شاہراہ پر ایک چکر لگا لیں آپ کو ایسی کئی مجبور  خواتین کام کرتی نظر آ جائیں گی جن کا کمانے والا کوئی مرد نہیں ہے۔ کوئی بیوہ ہو گی تو کوئی ایسی یتیم ولاوارث عورت کہ جس کاکوئی نگہبان نہیں ہو گا سوائے اللہ کے۔ایسی خواتین کی مدد کرنے والے بھی معاشرے میں کافی لوگ ہوتے ہیں۔گزشتہ دنوں بھی ایسا ہی ایک ہمدردانہ واقعہ پیش آیا۔


یو اے ای کے سفیر حماد عبید الزابی اسلام آباد کی سڑکوں پر رواں دواں تھے کہ انہوں نے سڑک کنارے ایک خاتون کو پھل بیچتے دیکھا۔وہ گاڑی سے اتر کر اس خاتون کے پاس گئے اور اس سے بات چیت کی۔ بات چیت کے دوران پتا چلا کہ خاتون بیوہ ہے اور تین بیٹیوں سمیت ایک بیٹے کی کفالت اس کے ذمہ ہے۔روزی روٹی کا اور کوئی بندوبست نہیں ہے تو بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے وہ پھل بیچ کر گزارہ کرتی ہے۔ اس دوران خاتون نے بتایا کہ ذاتی گھر نہ ہونے کی وجہ سے کمائی کا ایک بڑا حصہ گھر کے کرائے میں کٹ جاتا ہے لہٰذا اس کی خواہش ہے کہ اللہ اسے اپنا ذاتی گھر دے۔اس پر یو اے ای کے سفیر نے اس بیوہ خاتون کو اس کے بچوں کے لیے اسلام آباد میں ایک فرنشڈ گھر تحفے کے طور پر دیا۔حماد عبید الزابی کا کہنا تھا کہ آپ خود دار ہی نہیں بلکہ دلیر خاتون بھی ہیں اور آپ نے اپنے بچوں کی روزی روٹی کے لیے حلال رزق کی جستجو کی ہے اس پر میں آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں