سندھ کے نئے سیکریٹری اطلاعات اعجاز حسین بلوچ کو آتے ہی بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا ہوگا ۔

صوبائی حکومت نے اعجاز حسین بلوچ کو سندھ کا نیا سیکریٹری اطلاعات تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اعجاز حسین بلوچ کا تعلق ایکس پی سی ایس گروپ سے ہے وہ گریڈ 20 کے افسر ہیں سندھ کے محکمہ اطلاعات میں بطور سیکرٹری ان کی تعیناتی ایک اہم مرحلہ پر ہوئی ہے جب اس محکمے سے صوبائی حکومت بہت سی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں گزشتہ کچھ عرصے سے محکمہ اطلاعات میں کوئی سیکرٹری قدم نہیں جما پایا ۔محکمہ اطلاعات میں عمران عطا سومرو کے بعد جتنے سیکرٹری آزمائے گئے وہ چند دنوں کے مہمان ثابت ہوئے کچھ افسران نے تو یہاں آنے سے صاف معذرت کر لی کچھ نے بادل نخواستہ حامی بھری لیکن چارج سنبھالنے میں تاخیر کرتے رہے کچھ نے فورا چارج تو سنبھالا لیکن زیادہ دن بات نہ بن سکی ۔سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن اور سابق سیکریٹری اطلاعات ذوالفقار علی شالوانی کی نیب ریفرنس میں محکمہ کے دیگر افسران و ملازمین اور ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے مالکان اور ملازمین کے ساتھ گرفتاری کے بعد سے یہ محکمہ نیب کے ریڈار پر ہیں اور یہاں آنے والے افسران خود کو عجیب سے دباؤ محسوس کرتے ہیں یہاں پر اربوں روپے کے بجٹ اور کروڑوں روپے کے پرانے بلوں کی ادائیگیاں ہر آنے والے سیکریٹری کے لئے درد سر بن جاتی ہیں ماضی میں یہ محکمہ افسران کی شان و شوکت کے لئے مشہور ہوتا تھا یہاں میڈیا مالکان اور نامور اینکرز اور صحافی و کالم نویسوں کے ساتھ سیکرٹری اطلاعات کی دوستی اور مضبوط تعلقات استوار ہوتے تھے اور میڈیا میں اس کی کافی پروجیکشن ہوتی تھی لیکن نیب ریفرنس اور اربوں روپے کی کرپشن کی داستان سامنے آنے کے بعد اس محکمے کے افسران کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ایسا لگتا ہے کہ یہاں پر کوئی آسیب کا سایہ آگیا ہے ہر آنے والا افسر گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار رہتا ہے اور زیادہ عرصہ یہاں ٹک کر کام نہیں کر پاتا ایک صوبائی سیکرٹری اطلاعات زاہد میمن کی یہاں پر وفات ہوئی ۔اب جو بھی افسر یہاں سیکرٹری بن کر آتا ہے اسے سر منڈاتے ہی اولے پڑتے ہیں پہلی بریفنگ میں ہی اسے بتا دیا جاتا ہے کہ یہاں پر کتنے بڑے بڑے چیلنجز درپیش ہیں ۔یہ سوال بھی گردش کرتا ہے کہ یہاں پر اصل اختیار کس کے پاس ہے بظاہر صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ ہی کرتا دھرتا ہیں لیکن کیا یہ پورا سچ ہے ؟اس کا جواب افسر کو اسی وقت ملتا ہے جب وہ سیکرٹری اطلاعات بن کر آتا ہے ۔جو افسران یہاں پر سیکرٹری اطلاعات رہ چکے ہیں وہ گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ پورا سچ نہیں ہے ۔


نئے سیکریٹری اطلاعات اعجاز حسین بلوچ ایک تجربہ کار اور ذہین سرکاری افسر ہیں صوبائی حکومت کے مختلف محکموں میں اہم عہدوں پر کامیابی سے فرائض انجام دیتے آئے ہیں ان کے نوٹیفیکیشن کے مطابق وہ ان دنوں تعیناتی کے منتظر تھے چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ کی منظوری سے سیکشن افسر- ون کے دستخطوں سے 30 اپریل جاری ہونے والے نوٹیفیکشن کے مطابق انہیں سیکرٹری اطلاعات کی خالی اسامی پر تعینات کیا گیا ہے یہاں سے پچھلے دنوں رفیق احمد بڑو کا تبادلہ کیا گیا تھا ۔
محکمہ اطلاعات سندھ کے نئے سیکریٹری اعجاز حسین بلوچ کی آمد محکمہ اطلاعات کے افسران اور ملازمین کے لیے ایک سرپرائز ہے محکمہ اطلاعات سے وابستہ ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے مالکان میڈیا مینیجرز اور اخبارات سے وابستہ اشتہارات کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں اور رپورٹر کے لئے بھی یہ ایک نئی موو ہے مارکیٹ میں جو نام نئے سیکرٹری کے طور پر گردش کر رہے تھے ان میں اعجاز حسین بلوچ کا نام شامل نہیں تھا اس لیے اکثر شخصیات حیران ہیں کے اچانک اعجاز حسین بلوچ کے نام یہ قرعہ کیسے نکلا ۔ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اکثر لوگ ان کے بارے میں معلومات جمع کرتے نظر آئے پوچھا جانے لگا کہ وہ کس پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں کیسے مزاج کے افسر ہیں ان کے شوق کیا ہیں ان کے قریبی دوست کون ہے ۔۔۔۔۔محکمہ اطلاعات میں آنے والے ہر نئے سیکریٹری کے بارے میں اسی طرح کے سوالات اور معلومات اکٹھی کی جاتی ہے اعجاز حسین بلوچ کے بارے میں بھی یہ سوالات اور معلومات جمع کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔جو لوگ اعجاز حسین بلوچ کو مختلف سرکاری عہدوں پر دیکھتے آئے ہیں ان سے پرانی ملاقات کا تجربہ اور اعزاز رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ کس مزاج ،ذہانت قابلیت اور ترجیحات والے انسان ہیں پرانے دوستوں کا بتانا ہے کہ اعجاز حسین بلوچ محکمہ اطلاعات میں ایک مختلف منفرد اور کامیاب افسر ثابت ہوسکتے ہیں وہ اپنے راستے میں مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کرنے والوں سے نمٹنا اور منہ زور گھوڑوں کو اپنے قابو میں کرکے ان پر سواری کرنے کا فن جانتے ہیں اس لئے آنے والے دنوں میں محکمہ اطلاعات کی کارکردگی اقدامات اور نتائج دلچسپ مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں عین ممکن ہے کہ اس مرتبہ یہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا میچ ثابت نہ ہو بلکہ ایک نئی اور لمبی اننگ کا کھیل نظر آئے ۔
اعجاز حسین بلوچ کو محکمہ اطلاعات میں درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور کامیابیوں کے سفر کو آگے بڑھانے کے لئے سرکاری ملازمت کے چند بنیادی سبق یاد رکھنے ہوں گے ۔امید ہے کہ وہ بہتر نتائج کے ساتھ پیش قدمی کریں گے ۔
———————
Salik-Majeed
—————-Whatsapp…….92-300-9253034