آئی ایم ایف کا گورنر لانا پاکستان کی بڑی غلطی ہے

رضا باقرکو اسٹیٹ بینک کا گورنر بنانے پر حکومت اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بن رہی ہے ۔اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک کا اہم ترین عہدہ آئی ایم ایف کے ملازم کے حوالے کردیا گیا ہے گویا پاکستان کی معیشت پر آئی ایم ایف کا کنٹرول ہو گیا ہے ایسا کرنا انتہائی نامناسب اقدام ہے گورنر اسٹیٹ بینک کا عہدہ ایک حساس نوعیت کا عہدہ ہے اس کے پاس پاکستان کا اہم ترین ڈیٹا ہوتا ہے ۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی اس معاملے پر لب کشائی کی ہے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی تاریخ میں میری بات یاد رکھیں کے موجودہ گورنر اسٹیٹ بینک کو لانا بڑی غلطی ہے۔


اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما مشاہداللہ خان نے بھی کھل کر گورنر اسٹیٹ بینک کی تقرری کے حکومتی فیصلے پر تنقید کی تھی اور اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کردینے کے مترادف اقدام قرار دیا تھا۔البتہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے رضا باقر کی سائیڈ لیتے ہوئے حکومتی فیصلے کا دفاع کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ وہ پاکستان کا بیٹا ہے اور کم تنخواہ پر پاکستان آرہا ہے اس کی تعریف کرنی چاہیے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ماضی میں مختلف عالمی مالیاتی اداروں سے اہم شخصیات آئیں اور پاکستان کے اہم عہدوں پر براجمان رہیں اور پھر جب کام نکل گیا تو وہ شخصیات بھی پاکستان سے غائب ہوگئی لہذا سوچ سمجھ کر فیصلے ہونے چاہیے ماضی میں معین قریشی پاکستان آئے اور وزیراعظم بنے اسی طرح ماضی میں شوکت عزیز آئے جو پہلے وزیر خزانہ بنے اور پھر وزیراعظم بنے اور اس کے بعد پاکستان سے غائب ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں