یہ ٹیکنوکریٹ لوگ کسی کے نہیں ہوتے

ملک بھر کے صنعت کار اور تاجر برادری بجٹ سے پہلے نئے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی تعریفوں کے پل باندھنے میں مصروف ہے انہیں عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ ان کی ماضی کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے ان سے بہت کچھ بدلنے کی توقعات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے پاکستانی معیشت کو ایک مسیحا مل گیا ہے جو آنے والے چند مہینوں میں ہی صورت حال کو یکسر بدل کر رکھ دے گا ۔


دوسری طرف حزب مخالف کی سیاسی جماعتیں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور معاشی ٹیم پر تنقید کررہی ہے اور مہنگائی کے سونامی کی وجہ سے عوام کے لیے صورتحال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ بطور مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کو اپنی قابلیت صلاحیت اور ذہانت کا بھرپور مظاہرہ کرنے کے لیے جو وقت ملا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کہا جا رہا ہے ایک طرف قرضوں کا پہاڑ ہے اس پر سود کی ادائیگی ہیں بہت بڑا چیلنج ہے دوسری طرف معیشت کو سہارا دینے کے لیے مزید قرضے لئے جارہے ہیں ۔ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کہہ چکے ہیں کہ میرے بعد آنے والے کے لیے حالات سازگار نہیں ہونگے مشکلات بہت ہوگئی کہ چند مہینوں میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی ۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بحث چل رہی ہے کہ اگر پیپلزپارٹی کا وزیر خزانہ ہی لینا تھا تو پھر پیپلزپارٹی کے دور پر اتنی تنقید کیوں۔ اگر پیپلزپارٹی کے وزراء ہیں ہر جگہ بٹھانے تھے تو پھر وزیراعظم بھی پیپلزپارٹی سے لے آتے۔


حکومتی وزراء بھی اس صورتحال پر جو کچھ بن پاتی ہے جواب دیتے ہیں لیکن یہ طے ہے کہ حکومت زبردست دباؤ کا شکار ہے ۔حفیظ شیخ کے آنے کے بعد پیپلزپارٹی کے سامنے پی ٹی آئی حکومت کی اخلاقی پوزیشن بہتر ہونے کی بجائے خراب ہوئی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ اپنے دور کا وزیر خزانہ دیکھ کر کیسا لگتا ہے ؟ تو آصف زرداری میں جواب دیا کہ یہ ٹیکنوکریٹ لوگ کسی کے نہیں ہوتے یہ پیپلزپارٹی کے لیے کبھی جیل نہیں گئے۔ آصف زرداری کے اس مختصر اور سیدھے جواب نے پی ٹی آئی کی حکومت کے لئے حفیظ شیخ کی افادیت کو واضح کردیا ہے آصف زرداری نے حکومت اور حفیظ سے کو لانے والوں کو واضح پیغام دے دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں