وباء کے باوجودتعمیراتی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ترغیبات تعمیراتی شعبہ میں متوقع تیزی نہیں لا سکیں۔
بینکوں کے تحفظات دورکرنا ضروری ہیں۔میاں زاہد حسین
mian zahid hussain sme 8-5-2020
30اپریل2021
ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وباء کے باوجودتعمیرات اور گھروں کے لئے قرضوں کے حصول میں اضافہ ہوا ہے جس سے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کی پالیسی کی کامیابی کا پتہ چلتا ہے۔ تاہم وزیراعظم عمران خان کے پچاس لاکھ گھروں کی فراہمی کے انتخابی وعدے کی تکمیل کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ مرکزی بینک اور بینکوں کی تنظیم کے مطابق جولائی سے مارچ تک کنسٹرکشن اور ہاؤسنگ کے شعبہ میں 202ارب روپے کے قرضے لئے گئے ہیں جو گزشتہ سال میں لئے گئے قرضوں سے 54 ارب روپے زیادہ اور ملکی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل تعمیرات کے شعبہ کے لئے ترغیبات کا اعلان کیا گیا تھاجس کے بعد بھی مذید ترغیبات کا سلسلہ جاری ہے تاہم ان اقدامات سے اس اہم شعبہ میں وہ تیزی وسرگرمی نہیں آسکی جس کی توقع تھی۔ بینکوں کو قرضوں کا پانچ فیصد اس شعبہ کے لئے مختص کرنے کا ہدایات بھی کی جا چکی ہیں اور تعمیل نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے مگر بینک اس سلسلہ میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں کیونکہ ابھی تک انکی منشاء کے مطابق متعلقہ قوانین میں ضروری ترمیم نہیں کی گئی ہے اور موجودہ قوانین کو بینک اپنے مفادات کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ بینک ڈیفالٹ کی صورت میں اپنی سرمائے کی فوری واپسی چاہتے ہیں جبکہ موجودہ قوانین کے تحت انھیں سالہا سال تک عدالتوں کے چکر لگانا پڑیں گے جو انکے لئے ناقابل قبول ہے۔ اس اسکیم کی بھرپور کامیابی کے لئے بینکوں کے اعتماد کی بحالی بنیادی حیثیت رکھتی ہے جسے مذید نظر انداز نہیں کرنا چائیے۔ بینکوں کو مطمئن کرنے کی صورت میں تعمیرات سے وابستہ درجنوں صنعتیں رواں ہو جائیں گی اور لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا جو جی ڈی پی کی شرح نمو بڑھانے کے لئے ضروری ہے۔
ّّ۔۔۔